🔍 اعلی تلاش
150 نتائج ملے "ماں"
شاعری
غزل
اشعار کی پہن کے قبا سی گروپ میں
ہو محوِ رقصاں لفظوں کی داسی گروپ میں
...روپ میں
اس کا نہیں علاج کوئی، حاذقِ زماں
قبضہ کیے ہوئے ہے جو کھانسی گروپ میں
بکھرے پڑے ہوئے ہیں کئی قافیہ ردیف
آ...
شاعری
غزل
کچھ ستاروں کے سَعا کو کہکشاں کہتے ہو تم
” سب حقیقت چاہتے ہیں داستاں کہتے ہو تم“
...ھروں کو مارے جو
کیوں فضیلت کا اسے اک آسماں کہتے ہو تم
کل تلک تھے سوچ کر جس کو پریشاں رات دن
آج اس ماحول کو امن و ام...
نثر
کہانی
## ننھا دوست "چاند"
سرسبز کھیتوں، آم کے درختوں اور مٹی کی خوشبو سے بھرے ایک خوبصورت گاؤں میں ایک ننھا سا لڑکا رہتا تھا۔ اس کا نام احمد تھا۔
... کوئی مٹھائی تھوڑی ہے!”
اتنے میں دادی اماں مسکراتے ہوئے بولیں،
“اس کا رنگ تو چاند جیسا ہے… کیوں نہ اس کا نام ‘چاند’ رک...
شاعری
غزل
تعصب کی بکے عینک جہاں پر
محبت مل نہیں سکتی وہاں پر
... تم جان و دل سے
پھر اس کے بعد کہنا شعر ماں پر
قبیلے کو بقا بخشی ہے جس نے
وہی احساں جتائے کارواں پر
ہمیں اس قید ...
شاعری
نوحہ
فرقت سہے گا کیسے مری، ڈر ہے کربلا
چھ ماہ کا فقط مرا اصغر ہے کربلا
...ی میرا گل تر ہے کربلا
اس سن میں کوئی ماں سے جدا ہوتا ہے بھلا
کیسا مرے علی کا مقدر ہے کربلا
پہلے پہل ہوا ہے جدا م...
شاعری
غزل
ترے خیال سے بہتر کوئی خیال نہیں
ترے وصال سے بہتر کوئی وصال نہیں
...رہتے ہیں دور ہم کوسوں
کہے ہیں خودکومسلماں مگر ملال نہیں
تری جدائی میں پل پل اسد تڑپتا ہے
کہےبھی کیسےترےہجر سےنڈھ...
شاعری
غزل
بزم کی ابتدا ہوئی ہے کیا
تیرے حق میں دعا ہوئی ہے کیا
...رتا ہے
غم کی کوئی دوا ہوئی ہے کیا
آسماں سرخ کیوں ہوا سرِ شام
پھر کوئی کربلا ہوئی ہے کیا
چھوڑ جانے کی بات کرتے ہو...
شاعری
غزل
مکاں سے لا مکاں تک آ گئے ہیں
کہاں سے ہم کہاں تک آ گئے ہیں
...
نہ پہنچے خانۂ دل کے مکیں تک
زمیں سے آسماں تک آ گئے ہیں
گزر کر ہم خودی وہم و گماں سے
خدا جانے کہاں تک آ گئے ہیں
...
شاعری
غزل
کامرانی ان کو ملتی ہے جہاں میں
جو جلائیں شوق کی شمعیں رواں میں
...گر اے نو جواں تو
پھر نظر آئے گی منزل آسماں میں
مٹ کے بھی باقی رہے شہرت ہماری
ہر صدا گونجے ہماری داستاں میں
ذکر ...
شاعری
نوحہ
پہنچ کر مدینہ رسولِ خدا سے
شکایت کروں گی میں ماں فاطمہ سے
... مدینہ رسولِ خدا سے
شکایت کروں گی میں ماں فاطمہ سے
نبی کے دلاروں کا خوں ہے بہایا
یہ واقف نہیں آیتِ اِنّما سے
...
شاعری
متفرق
میری سوئی ہوئی تقدیر جگا دے آ کر
کاش پھر موسمِ برسات جِلا دے آ کر
... سے
لوٹ کر پھر وہ گھر نہیں آتا
نیند ماں باپ کو نہیں آتی
بچہ جب رات بھر نہیں آتا
کیوں سمجھتا ہوں دال پر دِل کے
...
نثر
افسانہ
انجیر کی مٹھائی !
اپنے گالوں پر پڑے تھپڑوں کی سنسناہٹ اسے اب تک اپنے دماغ میں محسوس ہو رہی تھی۔ایک زبردست گھونسہ اس کی داہنی آنکھ کے بالکل نچلے حصے پر پڑا تھا۔ دونوں آنکھوں سے لگاتار آنسو قطار کی شکل میں بہہ رہے تھے۔ داہنی آنکھ سے نکل رہے آنسوؤں کا سبب گھونسے کی شدت سے ادھ کھلی آنکھ میں ہو رہا درد تھا، اندر کا کرب بائیں آنکھ سے آنسوؤں کی شکل میں ابل رہا تھا ۔
...نا- آج ہماری سادی کی سالگرہ تھی- ان کی ماں بیمار ہے - دو دن سے گاؤں گئے ہوئے ہے-“
ساتھی نرس نے جھوٹی ہمدردی کا اظہار ک...
شاعری
غزل
ہنستے ہنستے رلا دیا مجھ کو
اس نے پاگل بنا دیا مجھ کو
... کو
میں زمیں زاد تھا مگر اس نے
آسماں پر بٹھا دیا مجھ کو
حوصلے نے شؔرر مرے دل کے
پھر سے ...


