غزل
رام نرائن سکسینہ
منگل، 21 اپریل 2026
👁 21
❤️ 2
مکاں سے لا مکاں تک آ گئے ہیں
کہاں سے ہم کہاں تک آ گئے ہیں
جہاں جلتے ہیں پر ہوش و خرد کے
جنوں میں ہم وہاں تک آ گئے ہیں
بھڑک اٹھی ہے کیسی آتش گل
شرارے آشیاں تک آ گئے ہیں
خلوص دوستی پر مرنے والے
حیات جاوداں تک آ گئے ہیں
ہماری گم رہی منزل نشاں ہے
تجسس میں کہاں تک آ گئے ہیں
وہاں دل میں محبت کی کمی ہے
جہاں شکوے زباں تک آ گئے ہیں
تماشائے بہار گل کی شیدا
بہار گل رخاں تک آ گئے ہیں
مقام اپنا نہیں معلوم لیکن
جہاں تم ہو وہاں تک آ گئے ہیں
کسی کے جلوہ ہائے حیرت انگیز
نظر کے امتحاں تک آ گئے ہیں
نہ پہنچے خانۂ دل کے مکیں تک
زمیں سے آسماں تک آ گئے ہیں
گزر کر ہم خودی وہم و گماں سے
خدا جانے کہاں تک آ گئے ہیں
رشیؔ منزل نہیں اب دور ہم سے
غبار کارواں تک آ گئے ہیں
✍️ رام نرائن سکسینہ — مختصر تعارف
📍 پٹیالہ بھارت
✨ رشی پٹیالوی کی سوانح حیات (مکمل اور جامع)
رشی پٹیالوی (1917–1999) اردو کے معروف مزاح نگار، شاعر اور ادیب تھے جنہوں نے اپنی شگفتہ تحریروں اور ہلکے پھلکے طنز و مزاح کے ذریعے اردو ادب میں ایک منفرد مقام حاصل کیا۔ ان کا اصل نام رام نرائن سکسینہ تھا، مگر وہ ادبی دنیا میں “رشی پٹیالوی” کے نام سے مشہور ہوئے۔
🟢 ابتدائی زندگی
رشی پٹیالوی 1917 میں پٹیالہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک تعلیم یافتہ گ …
غزل کیا ہے؟
غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔
رام نرائن سکسینہ کی مزید
مکاں سے لا مکاں تک آ گئے ہیں
کہاں سے ہم کہاں تک آ گئے ہیں
جہاں جلتے ہیں پر ہوش و خرد کے
جنوں ...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!