اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
عبدالدیان اسدؔ جمعہ، 15 مئی 2026
👁 22 ❤️ 2
تعصب کی بکے عینک جہاں پر
محبت مل نہیں سکتی وہاں پر
مخالف ہو گئے احباب سارے
صداقت آگئی جب سے زباں پر
کرو پہلے ادب تم جان و دل سے
پھر اس کے بعد کہنا شعر ماں پر
قبیلے کو بقا بخشی ہے جس نے
وہی احساں جتائے کارواں پر
ہمیں اس قید سے آزاد کردے
ہمارا من نہیں لگتا یہاں پر
ہے ایسی شئے محبت پیار الفت
نہیں ملتی کہیں کوئی دکاں پر
اسد بغض و حسد تقدیر ہوگی
تجھے دیکھا گیا ہے آسماں پر
📖 خلاصہ

یہ فکری، اصلاحی اور اخلاقی شعور سے بھرپور غزل عبدالدیان اسد کے اسلوب کی سنجیدگی اور سماجی بصیرت کو نمایاں کرتی ہے۔ شاعر نے یہاں تعصب، بغض، حسد اور سماجی تقسیم جیسے مسائل پر گہری تنقید کی ہے اور محبت، …

← پچھلا اگلا →
عبدالدیان اسدؔ کی مزید
اس جگہ پر جنوں مہمان ہوا کرتے ہیں جس جگہ شاہ بھی دربان ہوا کرتے ہیں زخم کو نوچ کے خوں اپنا بہاتے رہن...
کہیں پہ صدیوں پرانی آتش غضب سے اپنے بجھا رہا ہے چراغ ٹوٹا ہوا کہیں پر ہوا کی زد میں جلا رہا ہے تمام ...
”معراج بی“ کی یاد سے کتنی نمی ہے آج بیٹوں کی آنکھ نم ہے تو بیٹی دکھی ہے آج احباب رشتے دار ہیں ہمسائے...
یاس و حسرت سے ادھر آنکھ تکی جائے گی جس طرف جانِ غزل تیری گلی جائے گی دے کے آواز زمانے کو جو خاموش ہو...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن