اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
نوحہ
اصغرؔ عابدی جنیری بدھ، 24 جون 2026
👁 36 ❤️ 2
فرقت سہے گا کیسے مری، ڈر ہے کربلا
چھ ماہ کا فقط مرا اصغر ہے کربلا
ام رباب کہتی تھی رکھنا سنبھال کے
نازک بہت ہی میرا گل تر ہے کربلا
اس سن میں کوئی ماں سے جدا ہوتا ہے بھلا
کیسا مرے علی کا مقدر ہے کربلا
پہلے پہل ہوا ہے جدا مجھ سے میرا لال
دل میں بپا عجیب سا محشر ہے کربلا
سینہ میں اسکے ہجر نے بھردی ہے میرے آگ
کب ایک پل بھی چین میسر ہے کربلا
چھ ماہ کے بھی طفل نحر ہوتے ہیں کہیں
قابو میں کب مرا دل مضطر ہے کربلا
ننھی زبان اس کی نہ پانی سے تر ہوئی
اس کا گلا لہو سے مگر تر ہے کربلا
گر ہو سکے پلانا اسے چند بوند آب
تشنہ دہاں بہت مرا دلبر ہے کربلا
تربت ملی بھی اس کو تو کچھ پہر کے لئے
اب اس کی لاش قبر سے باہر ہے کربلا
سر اس کا لے گیا ہے ستمگار کاٹ کر
لاشہ اب اس کا خاک پہ بے سر ہے کربلا
دوبار کاٹا ہے گلا بے شیر کا مرے
سر اس کا دیکھ نوک سناں پر ہے کربلا
راتوں کو لوری دے کے سلانا اگر اٹھے
اس کے لئے زمیں تری بستر ہے کربلا
گہوارہ میں ہمکنا وہ آواز پر مری
پھرتا نگاہوں میں یہی منظر ہے کربلا
مجھ کو بتا میں کیسے چلی جاؤں چھوڑ کر
مدفوں ہے بیٹی شام میں اصغر ہے کربلا
فریاد لکھ کے دل جلی ام رباب کی
اصغرؔکا آنسوؤں سے قلم تر ہے کربلا
شاعر: اصغرؔ عابدی جنیری
انتخاب: مبین انصاری
📖 خلاصہ

یہ دل سوز نظم شاعر **اصغر عابدی جنیری** کی تخلیق ہے جس میں **ام ربابؑ** کے دل کی کیفیت اور **حضرت علی اصغرؑ** کی مظلومانہ شہادت کا درد بیان کیا گیا ہے۔ شاعر نے کربلا کے المناک واقعات کو ایک ماں کی نگا…

← پچھلا اگلا →
اصغرؔ عابدی جنیری کی مزید
فرقت سہے گا کیسے مری، ڈر ہے کربلا چھ ماہ کا فقط مرا اصغر ہے کربلا ام رباب کہتی تھی رکھنا سنبھال ...
ردیف ایسی ملی ہے بزم میں نایاب پانی میں کھپانے لگ گئے سر مل کے سب احباب پانی میں نگاہِ لطف اک ڈا...
ردیف ایسی ملی ہے بزم میں نایاب پانی میں کھپانے لگ گئے سر مل کے سب احباب پانی میں نگاہِ لطف اک ڈا...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن