⭐ آج کی خاص تشریح
دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے
—
غالب اپنے دل سے مخاطب ہیں اور اسے نادان کہتے ہیں۔ سوال کر رہے ہیں کہ آخر تجھے کیا ہو گیا ہے جو اتنا بے چین ہے؟ پھر یہ بھی پوچھتے ہیں کہ جو درد تجھے لگا ہے اس کا علاج کیا ہے — گویا خود بھی لاعلم ہیں کہ…
مکمل تشریح پڑھیں ←
📚 تازہ تشریحیں
11 تشریحیں
میں حالِ شکستہ سے باہر تو نکل آؤں
پھر ساتھ میں دیکھیں گے مہتاب محبت کے…
پھر ساتھ میں دیکھیں گے مہتاب محبت کے…
— انصاری عمران احمد عبداللہ
اس شعر میں شاعر اپنے دل کی ٹوٹ پھوٹ، غم اور ذہنی پریشانی کی کیفیت کو بیان کرتا ہے۔ شاعر کہ…
پڑھیں ←
ڈور تک ثابت نہیں اعصاب کی
کر رہے ہیں بات آب و تاب کی…
کر رہے ہیں بات آب و تاب کی…
— عبدالدیان اسدؔ
اس شعر میں شاعر انسان کی کمزوری، بے ثباتی اور کھوکھلے دعووں پر طنز کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے ک…
پڑھیں ←
تم حقیقت نہیں ہو حسرت ہو
جو ملے خواب میں وہ دولت ہو…
جو ملے خواب میں وہ دولت ہو…
— سید حسین جون اصغر
اس شعر میں شاعر محبوب کی حقیقت اور اپنی خواہشات کا نہایت خوبصورت انداز میں اظہار کرتا ہے۔…
پڑھیں ←
چراغ بن کے سرِ راہ جلنا پڑتا ہے
مزاج ظلمتِ شب کا بدلنا پڑتا ہے…
مزاج ظلمتِ شب کا بدلنا پڑتا ہے…
— فیاض سالکؔ
یہ شعر امید، جدوجہد اور حالات سے مقابلہ کرنے کے حوصلے کی ترجمانی کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ…
پڑھیں ←
فصیلِ دیدہ پہ دیدارِ یار کیلیں
چراغ بجھنے سے پہلے ہی ٹھوکنی ہوگی…
چراغ بجھنے سے پہلے ہی ٹھوکنی ہوگی…
— انصاری عمران احمد عبداللہ
شاعر اس شعر میں محبوب کے دیدار کی شدید خواہش اور وقت کی نزاکت کو نہایت خوبصورت انداز میں ب…
پڑھیں ←
مجھ سے سجدوں کی چھن گئی توفیق
میں یقیناً بڑے عذاب میں ہوں…
میں یقیناً بڑے عذاب میں ہوں…
— ہاشم حسین انور حسین
شاعر اس شعر میں اپنی روحانی کیفیت اور باطنی اضطراب کا اظہار کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ مجھ س…
پڑھیں ←
تخلیق، ارتکازِ تَجَمُّل نہ ہو سکی
سیراب، کائناتِ تخیل نہ ہو سکی
دہلیزِ غم پہ شور مچاتی رہی غزل…
سیراب، کائناتِ تخیل نہ ہو سکی
دہلیزِ غم پہ شور مچاتی رہی غزل…
— منتظم عاصیؔ
شاعر پہلے شعر میں اپنی تخلیقی کمزوری اور ناکامی کا اظہار کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ وہ اپنے خی…
پڑھیں ←
سہمی سہمی ہوئی، نڈھال ہَوا
کر رہی ہے کوئی سوال ہَوا…
کر رہی ہے کوئی سوال ہَوا…
— ہاشم حسین انور حسین
یہ شعر فطرت کے ایک نہایت نازک اور اداس منظر کی عکاسی کرتا ہے۔ شاعر نے “ہَوا” کو انسانی جذب…
پڑھیں ←
دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے…
آخر اس درد کی دوا کیا ہے…
— نامعلوم
غالب اپنے دل سے مخاطب ہیں اور اسے نادان کہتے ہیں۔ سوال کر رہے ہیں کہ آخر تجھے کیا ہو گیا ہ…
پڑھیں ←

