اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
افسانہ

انجیر کی مٹھائی

ع
عظمت اقبال بدھ، 6 مئی 2026
👁 71 ❤️ 2

انجیر کی مٹھائی !
اپنے گالوں پر پڑے تھپڑوں کی سنسناہٹ اسے اب تک اپنے دماغ میں محسوس ہو رہی تھی۔ایک زبردست گھونسہ اس کی داہنی آنکھ کے بالکل نچلے حصے پر پڑا تھا۔ دونوں آنکھوں سے لگاتار آنسو قطار کی شکل میں بہہ رہے تھے۔ داہنی آنکھ سے نکل رہے آنسوؤں کا سبب گھونسے کی شدت سے ادھ کھلی آنکھ میں ہو رہا درد تھا، اندر کا کرب بائیں آنکھ سے آنسوؤں کی شکل میں ابل رہا تھا ۔
رات کے اندھیرے میں وہ گتھم گتھا ہوتے قدموں سے آگے بڑھے جا رہا تھا۔ اسے بس کی رفتارپوری طرح سے تھم جانے کا انتظار کئے بغیر دھکا دے کر باہر پھینک دیا گیا تھا۔
آج ہفتے کا آخری روز ہونے کے سبب معمول کے مطابق وہ کچھ دیر سے فیکٹری سے نکلا -ـ آنے والی قیامت سے بے خبر جب وہ بس میں سوار ہوا تو بھوک کے سبب اس کے خالی پیٹ میں اینٹھن سی محسوس ہو رہی تھی۔
" ارے بہن جی سنو تو، بھائی میں نے جان بوجھ کر کچھ نہیں کیاـ-“
اس کے مزاحمتی الفاظ گالیوں کی بوچھار میں دب کر رہ گئےـ -
اس سے قبل کہ بس کنڈکٹر معاملے میں مداخلت کرتا مسافر کنال کو سبق سکھا چکے تھے کچھ مسافر خاموش تماش بین کا کردار ادا کرتے رہےـ اور کچھ نے اپنے کام سے کام رکھنے کی پالیسی پر عمل کیا-
بڑے بالوں والے ، سیاہ چشمہ لگائے لحیم شحیم نوجوان نے جب اسے گردن سے پکڑ کر نیچے جھکایا اور نوک دار سخت کہنی سے ریڑھ کی ہڈی کے درمیانی حصہ پر زبردست چوٹ کی تو اسے اپنی روح پیٹ سے ہوتی ہوئی منہ کے ذریعے نکلتی محسوس ہوئی۔
جب ایک زوردار لات اس کی ٹانگوں کے بیچ پڑی تو جسم کے دوسرے حصوں کے درد پر ٹانگوں کے بیچ کادرد حاوی ہو گیا ۔
کچھ دیر قبل طوفانی بارش اور تیز ہوا کے قہر نے لوگوں کو اپنے گھروں میں مقید اور راستوں کو ویران کر دیا تھاـ وہ رک رک کر گزرنے والی آٹو کو کانپتے ہاتھوں سے رکنے کا اشارہ کرتا رہا-مگر اس کے نقاہت اور درد سے ڈولتے وجود پر آٹو والوں کو کسی آوارہ شرابی کا گمان ہوتا اور وہ بے توجہی سے آگے بڑھ جاتےـ -
مخالف سمت سے آرہی کار کی ہیڈ لائٹ کی تیز روشنی نے اس کی آنکھوں کو چوندھیا دیا۔ ایک پل کو گویا وہ ہوش میں آیا۔ اسے یاد آیا اس نے منورما کی فرمائش پر اس کی پسندیدہ انجیر کی مٹھائی خریدی تھی۔ میٹھا ئی کا پیکیٹ کب اس کے ہاتھوں سے چھوٹ کر گرا اسے پتہ ہی نہیں چلا۔وہ اپنے لاغر جسم کو گھسیٹا ہوا آگے بڑھتا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حسب معمول کنال کے انتظار میں منورما کی توجہ دروازے پر ہونے والی دستک پر مرکوز تھی -اس نے گڑیا کو اپنی چھاتی سے دھیرے سے الگ کیا اس کے ماتھے کو ہلکے سے چوما اور آہستہ سے جھولے میں ڈال دیا۔ پچھلے ایک گھنٹے سے بجلی بند تھی۔ایک پل ٹھہر کر دیوار پر ٹنگے آئینے پر اس نے ایک نگاہ ڈالی۔ چراغ کی مدھم روشنی میں اس کی ناک میں لٹک رہی سنہری نتھ کی چمک اس کے چہرے کے گورے رنگ کو مزید جاذبیت بخش رہی تھی۔ یہ نتھ کنال نے اسے شب عروسی کے وقت بطور تحفہ دی تھی۔ کئی دفعہ پیسوں کی شدید ضرورت کے وقت منورما نے نتھ کو توڑ کر رقم حاصل کرنے کا ارادہ ظاہر کیا لیکن کنال نے منع کردیا۔ سات پھیرے لینے کے بعد تین سے چار برس معاشی آسودگی میں گزرے۔ جب تک کہ کنال کے باپ نے اپنے چاروں بیٹوں کو ایک کاروبار کی ڈور سے باندھے رکھا تھا۔ گاؤں میں شادی بیاہ اور تہوار کے موقعوں پر اکثر لوگ اسی پریوار کے کپڑے کی دکان مہا لکشمی کا رخ کرتے تھے۔ اور پھر ایک روز لکشمی کی پوجا کرتے ہوئے سیٹھ کشوری لال چکر آکر ایسے گرے کہ دوبارہ اٹھ نہیں پائے۔ ڈاکٹر نے بتایا زبردست اسٹروک تھا جسے ستر سالہ سیٹھ کا کمزور دل برداشت نا کرسکا۔ کچھ ہی دن گزرے کہ پریوار میں مہابھارت شروع ہو گئی جس کا اختتام کاروبار اور گھر کے بٹوارے پر ہوا۔ کنال نے اپنے بڑے بھائیوں سے الجھنے کی بجائے گاؤں چھوڑ کر سیکڑوں میل دور راجدھانی میں آکر نئے سرے سے منورما کے ساتھ زندگی کا سفر طے کرنے کو ترجیح دی۔ جو کچھ اس کے حصے میں آیا اس سے اس نے کچی بستی میں ایک جھگی نما مکان خرید لیا۔ اسے کولڈ ڈرنک کی فیکٹری میں ہیلپر کے طور پر کام مل گیا۔ چند مہینوں میں ہی اس نے مشین چلانا سیکھ لیا ۔اس کی تنخواہ میں بھی اضافہ ہو گیا ۔ان کی زندگی کے اگلے تین چار برس بڑے پر سکون و پر مسرت گزرے ۔ سوائے اولاد کے غم کے ۔ ایک بار اناتھالائے سے بچہ لینے کا ارادہ بھی کیا لیکن طے شدہ شرائط پر پورا نا اتر پانے کے سبب انہیں ناامیدی ہاتھ آئی۔ اور پھر ان کی زندگی میں خوشگوار موڑ اس وقت آیا جب منورما نے اسے خبر دی کہ وہ امید سے ہے۔گڑیا ڈیڑھ برس کی ہوچکی تھی-
گڑیا کے رونے کی آواز سن منورما نے آئینے سے نظریں ہٹائیں اور پلٹ کر جھولے کو دھکا دیا ۔ گڑیا نے آنکھیں موند لیں اور پل بھر میں گہری نیند سو گئی۔
منورما نے ٹک ٹک کرتی دیوار گھڑی پر نظر ڈالی۔وہ روزانہ دس بجے سے پہلے کھانا کھا کر کنال کے پہلو میں لیٹ جایا کرتی تھی ۔ گھڑی کی چھوٹی سوئی دس کے نمبر سے آگے بڑھتی دیکھ اب اسے فکر ہونے لگی۔ کنڈی کی کھڑکھڑاہٹ نے اس کے چہرے پر آئی فکر کی شکن کو کافور کر دیا۔
دروازہ کھولتے ہی کنال نے اپنے جسم کا بوجھ منورما کے حوالے کردیا تھاـ۔
" پانی" کنال کی کمزور آواز نے منورما کے وجود کو مضطرب کردیا- مشقت کے بعدمنورما نے کنال کو بستر تک پہنچایاـ-
“آپ کی یہ حالت کیسے ہوئی ؟ کچھ تو بتائیں؟”
کئی بار پوچھنے پر بھی کنال نے کوئی رد عمل نہیں دیا تو اس نے اسے اسپتال لے جانے کا فیصلہ کیا۔ پڑوسی رکشا والے کی مدد سے کسی طرح اسے رکشا میں ڈال کر وہ اسے اسپتال لے جانے کی کوشش میں لگ گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اکرام بھائی کرپا کرکے رکشا تیج چلائیں۔”
"جی دیدی ،"
آٹو والا خطرناک حد تک آنے والے موڑ پر آٹو موڑتے ہوئے بولا۔
منورما کی گود میں اسپتال حالات سے بے خبر ٹکٹی لگائے آٹو رکشا کی چھت پر روشن بلب کو گھورے جا رہی تھی۔ کنال کا سر اپنے کاندھے پر ٹکاتے ہوئے وہ بولی ،
“ہمت رکھیے ہم جلدی ہاسپیٹل پہنچ جائیں گے۔”
کنال کے بالوں میں ہلکے سے انگلیاں پھیرتے ہوئے اس نے خود کو تسلی دینے کی کوشش
کی ۔
اسپتال کے لئے نکلے انہیں تقریبا نصف گھنٹے کا وقت گزر چکا تھاـ۔
خنک اورتیز ہوا کے باوجود کنال کا جسم پسینے میں شرابور ہوا جا رہاتھا۔
“ہے بھگوان ؟”
اب وہ رونے لگی ۔
“ٹینشن نا لو دیدی بس ہم ہاسپیٹل پہنچ ہی گئے۔”
اکرام اسپتال کے گیٹ کے سامنے آٹو کو بریک لگاتاہوا بولا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ یہ تو پولیس کیس ہے- پہلے کمپلینٹ کرنی ہوگی -“
وارڈ بوائے نے اسپتال کے اصول سمجھاتے ہوئے منورما سے کہا۔
“بھیا ان کی حالت بہوت کھراب ہے۔کرپا کر کے آپ ڈاکٹر کو بلائیں۔”
منورما نے اسٹریچر پر بے سدھ پڑے اپنے پتی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے وارڈ بوائے سے التجا کی۔
منورما کی آنکھوں میں بے چارگی دیکھ وارڈ بوائے بولا ،
“ ٹھیک ہے آپ پہلے فارم لے کر بھر لیں پھر ہم پیشنٹ کو اندرلیتے ہیں”
“بھیا تم پیشنٹ کو اندر لو ہم پھارم لے کر آتے ہیں۔”
اکرام تقریبا دوڑتا ہوا فارم حاصل کرنے کے لئے کھڑکی کی طرف لپکا-
وارڈ بوائے ایک پل کو رکا۔ وہ منورما سے بولا،
“بہن جی آپ ادھر ہی رکو۔”
وہ اسٹریچر کھینچتا ہوا ایمر جنسی وارڈ میں لے گیا ۔
فارم جمع کرنے کے بعد اکرام منورما کے قریب آکر بولا،
“دھیرج رکھے دیدی ہم ہاسپیٹل پہنچ گئے ہیں ۔ بھگوان سب ٹھیک کر دے گا۔”
“پیشنٹ کے ساتھ کون آیا ہے۔”
باہر آ کر نرس نے پوچھا ۔
“یہ ان کی پتنی ہیں ۔”
اکرام نے آگے بڑھ کر نرس سے کہا،
“اور آپ؟”
“میں ان کا پڑوسی ہوں۔ میں اپنی آٹو میں انہیں لے کر آیا ہوں۔”
نرس ایک لمحے کے لئے رکی۔ اور منورما کو ہاتھ سے رکنے کا اشارہ کرتے ہوئے بولی،
”بہن جی آپ ادھر ہی رکو۔ بھیا آپ اندر آجاؤ۔”
منورما نے پریشان نظروں سے اکرام کی طرف دیکھاـ-
“ دیدی آپ یہاں بیٹھ جاؤ میں دیکھتا ہوں۔”
اکرام نے سامنے رکھے بینچ کے طرف اشارہ کرتے ہوئے منورما سے کہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیبین میں داخل ہونے کے بعد اکرام نے ڈاکٹر کو کو ہاتھ جوڑ کر نمستے کیا اور ٹیبل کے سامنے کھڑا ہو گیاـ
“دیکھو بھیا اس آدمی کی کسی سے ہاتھا پائی ہوئی ہے۔ جسم پر کچھ زخم کےنشان ہیں۔ ویسے تم کون ہو اس کے؟”
“جی صاحب پڑوسی ہوں۔”
“ساتھ میں کوئی رشتے دار نہیں آیا؟”
“جی ان کی پتنی بیٹھی ہے باہر ۔ بلاؤں؟”
“ نہیں رہنے دو آگے کی بات اسے تم ہی بتا دینا ۔”
آٹو والا بے چین سوالیہ نظروں سے ڈاکٹر کی جانب دیکھ رہا تھا۔
"بات یہ ہے کہ اس آدمی کی نبض تھم گئی ہے۔ زخم اتنے گہرے تو نہیں کہ جان چلی جائے - موت کی وجہ پوسٹ مارٹم کے بعد ہی پتہ چلے گی ہو سکتا ہے ہارٹ اٹیک کی وجہ سے ڈیتھ ہوئی ہو”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسپتال میں نائٹ شفٹ پر آنے والااسٹاف ، اسٹاف روم میں اپنی ڈیوٹی لینے کی تیاری کر رہا تھا-
“کیا بات ہے گلابو آج بڑی چہک رہی ہو؟ ۔”
جوانی کی دہلیز پر ابھی ابھی قدم رکھنے والی نرس اپنی ساتھی نرس سے بولی۔
" اب تیرے سے کیا چھپانا- آج ہماری سادی کی سالگرہ تھی- ان کی ماں بیمار ہے - دو دن سے گاؤں گئے ہوئے ہے-“
ساتھی نرس نے جھوٹی ہمدردی کا اظہار کیا-
“ارے یہ تو بیڈ لک ہوگیا -“
وہ بولی ،
نہیں رے ایسا کچھ نہیں - منوج ہے نا! وہ بولا ٹینسن مت لے تیری اینی ورسری اپن منائے گا- وہ مجھے پھلم دیکھنے لے گیا تھا- اور پتہ ہے ایک بہت بڑی ہوٹل میں ڈنر بھی کرایا اس نے-“
ایپرون پہنتے ہوئے وہ بولی۔ تیس سے پینتیس برس کی عمر میں بھی اس کی آنکھوں کی چمک سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ زندگی کھل کر جینے کی عادی ہے۔
“کبھی ہمیں بھی ساتھ لے چل۔”
وارڈ بوائے روم میں داخل ہوتے ہوئے نرس کاجملہ سن کر شرارت بھرے انداز میں اس کی گردن پر ہلکی سی چپت لگاتے ہوئے بولا-
“ اے بھوندو چل اپنے کام سے کام رکھ۔”
نرس نے اسے دھکا دیتے ہوئے کہا۔
“ارے یہ تیرے ہاتھ پر نسان کیسا؟”
وارڈ بوائے نے نرس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر پوچھا -
" ارے مت پوچھ یار جمانہ بڑا برا ہےـ ایک عورت کا گھر سے نکلنا مسکل ہوگیاہےـ کل یگ ہے کل یگ "
"کیوں کیا ہو گیا؟"
"چل جیادہ ڈیپ میں مت جا -لے مٹھائی کھا"
وہ انجیر کی مٹھائی کا آدھا پچکا پیکٹ پرس سے نکال کر ٹیبل پر رکھتے ہوئے بولی -
———————-
عظمت اقبال 9970666785.
مہاراشٹرا ، مالیگاؤں ، انڈیا

مزید متعلقہ نثر
تانگا
ایک گھنے درخت کے سائے میں تانگا رک گیا تھا ۔ تیز دھوپ تھی ۔ آدھے دن میں کچھ ...
نیند
وہ ساری رات پیسے گنتا رہا۔ کاروبار بڑھتا جا رہا تھا۔ مگر کئی دنوں سے اُسے نیند...
نوراں
سردیوں کا آغاز ہوا چاہتا تھا ، اللہ داد کا عشق بھی انگڑائی لے کر جاگنے لگا تھا ۔...
وقت کے پیچھے چھُپے لوگ
شہر کی روشنی، ہلچل اور سروں کے شور میں آئرہ اپنے خیالات کے سمندر میں غوطہ زن تھی...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن