غزل
ہاشم حسین انور حسین
جمعہ، 15 مئی 2026
👁 13
❤️ 2
اشعار کی پہن کے قبا سی گروپ میں
ہو محوِ رقصاں لفظوں کی داسی گروپ میں
اب تک کے دال رکھی ہے باسی گروپ میں
تم کیا گئے کے چھائی اداسی گروپ میں
اس کا نہیں علاج کوئی، حاذقِ زماں
قبضہ کیے ہوئے ہے جو کھانسی گروپ میں
بکھرے پڑے ہوئے ہیں کئی قافیہ ردیف
آکر کے دیکھ لیتے ذرا سی گروپ میں
ویران کر کے بزمِ ادب کیا گئے جناب
جانے لگے ہیں لوگ سیاسی گروپ میں
شعراء کے ساتھ ساتھ اب اشعار میں جناب
پیدا ہو پھر سے رنگِ لباسی گروپ میں
ہر اک سخن طراز کو ہے اس کا انتظار
ہاشمؔ تھی جس کی داد، دُعاسی گروپ میں
ہاشم حسین انور حسین کی مزید
کل شب جنابِ میر جو آۓ تھے خواب میں
ہم نے بھی اپنے شعر سناۓ تھے خواب میں
آنکھیں کھلیں نہیں کہ وہ ...
جس نے نصیب اپنا سنوارا نہیں ہے دوست
دنیا میں اس کا کوئی سہارا نہیں ہے دوست
شکوہ کروں تو کس سے کر...
اُمّتِ محمد کا صلہ سکینہ
کیسے بھول جائے کربلا سکینہ
ظلم جبر ایسا ظالموں نے ڈھایا
خوں بھرا ہوا ...
حصولِ آفریں جن کے سبھی القاب ہوتے ہیں
وہ راہِ عشق کے راہی بڑے کم یاب ہوتے ہیں
انہیں ہی ہر مسافر ...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!