نثری نظم
4 دن قبل
میں خود کشی نہیں کروں گی
میری آنکھیں نوحہ لکھیں گی
میرے آنسوؤں کے قلم سے
میری روح سنگ مرمر کی مانند
سرد اور بے جان ہو جائے گی
مگر میں
خودکشی نہیں کروں گی
مجھے موت سے محبت ہے
مر کے تو ہر بھوک مٹ جاتی ہے
ہر ہوس چھ...
نثری نظم
4 دن قبل
رسیا
دو بین کرتی آنکھیں
دو بے چین ہوتی آنکھیں
اپنی غربت کا
تماشہ بننے ہر
ہوس زدہ لوگوں کی
دزدیدہ نگاہوں سے خوفزدہ
جب چھم چھم آنسو بہا رہی تھیں
اور
اپنا آپ چھپا رہی تھیں
تو دیکھنے والوں کی...
نثری نظم
4 دن قبل
کوکھ
اندھیرے کی کوکھ نے
جنما ہے
ان گنت مہیب خیالوں کو
کتنے مبہم جوابوں کو
کتنے مشکل سوالوں کو
کہ
اس تاریکی نے
روح کے اندر رہنے کا
فیصلہ کر رکھا تھا
رگوں کے خون
اور
آنکھوں کے اشک میں
...
نثری نظم
4 دن قبل
لطیفہ
لطیفہ
ہی تو ہے یہ زندگی
ہاں
دیکھو تو
ایک لطیف سا احساس
سوچو تو
محض مرنے پر قیاس
اس لطیفے میں
جینے کی آرزو بھی ہے
سب پانے کی جستجو بھی ہے
کثافت لیے دلوں میں
منافقت بھرے لہجوں میں
...
نثری نظم
4 دن قبل
ریل گاڑی
جا وہ رہا تھا
مگر
محسوس ہوا کہ
میں سفر میں تھی
جدا وہ ہورہا تھا
مجھ سے
یا
میں ہجر میں تھی ؟
میری طرف دیکھ سکا وہ
نہ ہاتھ ہلایا اس نے
نجانے کب لوٹنا تھا دوبارہ
کوئی دن نہیں بتایا اس...
نثری نظم
جمعرات، 21 مئی 2026
گود کے لیے ترستی کویتا
ہرکویتا
کسی گود کے انتظار میں ہوتی ہے
جیسے تمہاری پالتو بلی
تمہاری گود
کا لمس لیتی ہے
ویسے ہی
وہ بھی
کسی کی گرم
گود میں سر رکھ کر
ایک کویتا
سنانا
چاہتا ہے
شبد بھی
بہت دیر بھٹکنے کے بعد
...
نثری نظم
جمعہ، 8 مئی 2026
جنون
جنون دار پر چڑھ کر رقص کرتا ہے،
جنون قتل کر کے افسوس کرتا،
جنون ہی رموزِ قلب سے واقف ہوتا ہے،
جنون ہی نادیدہ کی جستجو کرتا ہے،
جنون سفر کرکے منزلِ مقصود کو پاتا ہے
جنون وہ مذہب ہے
جس میں شع...
نثری نظم
جمعرات، 7 مئی 2026
زبان کی اہمیت
زبان محض لفظوں کا مجموعہ نہیں،
یہ دلوں کے درمیان ایک روشن پُل ہے۔
ماں کی لوری سے لے کر دعا کے آخری لفظ تک،
انسان اپنی پہچان زبان ہی سے پاتا ہے۔
زبان تہذیب کا آئینہ ہے،
قوموں کی تاریخ اس کے لہجے م...
نثری نظم
جمعرات، 7 مئی 2026
زعفرانی، سفید، ہرا
میں نے جب پہلی بار
اپنے اسکول کی چھت پر لہراتا ہوا ترنگا دیکھا تھا
تو مجھے صرف رنگ نظر نہیں آئے تھے
مجھے اپنا گھر دکھائی دیا تھا…
اپنی گلی، اپنی ماں کی دعا،
ابو کے پسینے کی خوشبو،
عید کی سویاں، ...
نثری نظم
بدھ، 22 اپریل 2026
میں مسافر ہوں محبت کے خیاباں کا
میں مسافر، ہوں محبت، کے خیاباں،
کا مجھے حرفِ ندا ذوق و شناسائی سے حاصل،
ہوئی معراجِ عُلٰی بختِ تمنا،
ہے کہاں اب، میں ستارے،
کی طرح اپنی چمک اوڑھ کے آزاد شعاعوں،
سے مخاطب، ہوا کرتا،
ہوں مجھ...

