نثری نظم
پیر، 25 مئی 2026
میں خود کشی نہیں کروں گی
میری آنکھیں نوحہ لکھیں گی
میرے آنسوؤں کے قلم سے
میری روح سنگ مرمر کی مانند
سرد اور بے جان ہو جائے گی
مگر میں
خودکشی نہیں کروں گی
مجھے موت سے محبت ہے
مر کے تو ہر بھوک مٹ جاتی ہے
ہر ہوس چھ...
نثری نظم
پیر، 25 مئی 2026
رسیا
دو بین کرتی آنکھیں
دو بے چین ہوتی آنکھیں
اپنی غربت کا
تماشہ بننے ہر
ہوس زدہ لوگوں کی
دزدیدہ نگاہوں سے خوفزدہ
جب چھم چھم آنسو بہا رہی تھیں
اور
اپنا آپ چھپا رہی تھیں
تو دیکھنے والوں کی...
نثری نظم
پیر، 25 مئی 2026
کوکھ
اندھیرے کی کوکھ نے
جنما ہے
ان گنت مہیب خیالوں کو
کتنے مبہم جوابوں کو
کتنے مشکل سوالوں کو
کہ
اس تاریکی نے
روح کے اندر رہنے کا
فیصلہ کر رکھا تھا
رگوں کے خون
اور
آنکھوں کے اشک میں
...
نثری نظم
پیر، 25 مئی 2026
لطیفہ
لطیفہ
ہی تو ہے یہ زندگی
ہاں
دیکھو تو
ایک لطیف سا احساس
سوچو تو
محض مرنے پر قیاس
اس لطیفے میں
جینے کی آرزو بھی ہے
سب پانے کی جستجو بھی ہے
کثافت لیے دلوں میں
منافقت بھرے لہجوں میں
...
نثری نظم
پیر، 25 مئی 2026
ریل گاڑی
جا وہ رہا تھا
مگر
محسوس ہوا کہ
میں سفر میں تھی
جدا وہ ہورہا تھا
مجھ سے
یا
میں ہجر میں تھی ؟
میری طرف دیکھ سکا وہ
نہ ہاتھ ہلایا اس نے
نجانے کب لوٹنا تھا دوبارہ
کوئی دن نہیں بتایا اس...
نثری نظم
جمعرات، 21 مئی 2026
گود کے لیے ترستی کویتا
ہرکویتا
کسی گود کے انتظار میں ہوتی ہے
جیسے تمہاری پالتو بلی
تمہاری گود
کا لمس لیتی ہے
ویسے ہی
وہ بھی
کسی کی گرم
گود میں سر رکھ کر
ایک کویتا
سنانا
چاہتا ہے
شبد بھی
بہت دیر بھٹکنے کے بعد
...
نثری نظم
جمعہ، 8 مئی 2026
جنون
جنون دار پر چڑھ کر رقص کرتا ہے،
جنون قتل کر کے افسوس کرتا،
جنون ہی رموزِ قلب سے واقف ہوتا ہے،
جنون ہی نادیدہ کی جستجو کرتا ہے،
جنون سفر کرکے منزلِ مقصود کو پاتا ہے
جنون وہ مذہب ہے
جس میں شع...
نثری نظم
جمعرات، 7 مئی 2026
زبان کی اہمیت
زبان محض لفظوں کا مجموعہ نہیں،
یہ دلوں کے درمیان ایک روشن پُل ہے۔
ماں کی لوری سے لے کر دعا کے آخری لفظ تک،
انسان اپنی پہچان زبان ہی سے پاتا ہے۔
زبان تہذیب کا آئینہ ہے،
قوموں کی تاریخ اس کے لہجے م...
نثری نظم
جمعرات، 7 مئی 2026
زعفرانی، سفید، ہرا
میں نے جب پہلی بار
اپنے اسکول کی چھت پر لہراتا ہوا ترنگا دیکھا تھا
تو مجھے صرف رنگ نظر نہیں آئے تھے
مجھے اپنا گھر دکھائی دیا تھا…
اپنی گلی، اپنی ماں کی دعا،
ابو کے پسینے کی خوشبو،
عید کی سویاں، ...
نثری نظم
بدھ، 22 اپریل 2026
میں مسافر ہوں محبت کے خیاباں کا
میں مسافر، ہوں محبت، کے خیاباں،
کا مجھے حرفِ ندا ذوق و شناسائی سے حاصل،
ہوئی معراجِ عُلٰی بختِ تمنا،
ہے کہاں اب، میں ستارے،
کی طرح اپنی چمک اوڑھ کے آزاد شعاعوں،
سے مخاطب، ہوا کرتا،
ہوں مجھ...


