غزل
ہاشم حسین انور حسین
جمعہ، 15 مئی 2026
👁 8
❤️ 2
کچھ ستاروں کے سَعا کو کہکشاں کہتے ہو تم
” سب حقیقت چاہتے ہیں داستاں کہتے ہو تم“
ظلم استبداد سے قاصر کیا جس نے تمہیں
یاں اسی کو کامیاب و کامراں کہتے ہو تم
بھوکے پیاسوں کو ستائے بے گھروں کو مارے جو
کیوں فضیلت کا اسے اک آسماں کہتے ہو تم
کل تلک تھے سوچ کر جس کو پریشاں رات دن
آج اس ماحول کو امن و اماں کہتے ہو تم
تم نے خود گردن میں اپنی جس کو ڈالا تھا کبھی
آج اس زنجیر کو طوقِ گراں کہتے ہو تم
ہاشم حسین انور حسین کی مزید
کل شب جنابِ میر جو آۓ تھے خواب میں
ہم نے بھی اپنے شعر سناۓ تھے خواب میں
آنکھیں کھلیں نہیں کہ وہ ...
جس نے نصیب اپنا سنوارا نہیں ہے دوست
دنیا میں اس کا کوئی سہارا نہیں ہے دوست
شکوہ کروں تو کس سے کر...
اُمّتِ محمد کا صلہ سکینہ
کیسے بھول جائے کربلا سکینہ
ظلم جبر ایسا ظالموں نے ڈھایا
خوں بھرا ہوا ...
حصولِ آفریں جن کے سبھی القاب ہوتے ہیں
وہ راہِ عشق کے راہی بڑے کم یاب ہوتے ہیں
انہیں ہی ہر مسافر ...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!