احمد اور اس کی بقرعید
ننھا دوست "چاند"
سرسبز کھیتوں، آم کے درختوں اور مٹی کی خوشبو سے بھرے ایک خوبصورت گاؤں میں ایک ننھا سا لڑکا رہتا تھا۔ اس کا نام احمد تھا۔
احمد بہت شرارتی مگر نرم دل بچہ تھا۔ اسے پرندوں سے باتیں کرنا، تتلیوں کے پیچھے بھاگنا اور بارش میں بھیگنا بہت پسند تھا۔ لیکن اس سال اس کی خوشی کی سب سے بڑی وجہ کچھ اور تھی…
عیدُالاضحیٰ آنے والی تھی۔
ایک شام جب سورج آہستہ آہستہ کھیتوں کے پیچھے چھپ رہا تھا، احمد کے ابو گھر کے دروازے پر آئے۔ ان کے ہاتھ میں ایک رسی تھی، اور رسی کے دوسرے سرے پر ایک خوبصورت سفید بکرا کھڑا تھا۔
اس کے کان نرم نرم تھے، آنکھیں چمکدار تھیں اور گردن پر بھورے رنگ کا ننھا سا نشان تھا۔
احمد خوشی سے اچھل پڑا۔
“امی! ابو بکرا لے آئے! ابو بکرا لے آئے!”
چھوٹی عائشہ بھی دوڑتی ہوئی آئی۔
“واااو! یہ تو بادل جیسا سفید ہے!”
احمد فوراً بکرے کے پاس بیٹھ گیا۔
“اس کا نام کیا رکھیں؟”
عائشہ بولی،
“برفی!”
احمد نے منہ بنایا۔
“نہیں! یہ کوئی مٹھائی تھوڑی ہے!”
اتنے میں دادی اماں مسکراتے ہوئے بولیں،
“اس کا رنگ تو چاند جیسا ہے… کیوں نہ اس کا نام ‘چاند’ رکھ دو؟”
احمد کی آنکھیں چمک اٹھیں۔
“ہاں! چاند! میرا دوست چاند!”
اسی دن سے بکرا “چاند” کہلانے لگا۔
چاند کی شرارتیں
چاند بہت سمجھدار مگر شرارتی بکرا تھا۔
صبح ہوتے ہی وہ “میں… میں…” کی آوازیں نکال کر سب کو جگا دیتا۔ اگر کسی نے دیر سے گھاس دی تو وہ صحن میں بندھی بالٹی کو سینگ مار دیتا۔
ایک دن امی کپڑے دھو رہی تھیں۔ اچانک عائشہ زور زور سے ہنسنے لگی۔
“امی دیکھیں! چاند کپڑے کھا رہا ہے!”
سب دوڑ کر آئے تو دیکھا کہ چاند امی کا دوپٹہ منہ میں پکڑے بھاگ رہا ہے۔
“ارے او شرارتی!” امی ہنستے ہوئے اس کے پیچھے بھاگیں۔
احمد تو ہنستے ہنستے زمین پر بیٹھ گیا۔
شام کو احمد چاند کو نہلاتا، اس کی پیٹھ سہلاتا اور اس سے باتیں کرتا۔
“چاند! تم میرے سب سے اچھے دوست ہو۔”
چاند اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے احمد کو دیکھتا اور آہستہ سے “میں…” کہتا، جیسے جواب دے رہا ہو۔
گاؤں کی رونق
عید قریب آتے ہی پورا گاؤں جگمگا اٹھا۔
بازار میں رنگ برنگی جھنڈیاں لگی تھیں۔ کہیں چوڑیوں کی دکانیں تھیں، کہیں ٹوپیوں کی۔ بچے خوشی خوشی اپنے ابو کے ساتھ خریداری کر رہے تھے۔
احمد بھی ابو کے ساتھ بازار گیا۔
وہاں ایک شخص خوبصورت رنگین پٹیاں بیچ رہا تھا۔
“ابو! چاند کے لیے نیلی والی لے لیں نا!”
ابو مسکرائے۔
“صرف ایک؟”
“نہیں… دو! ایک گلے کے لیے اور ایک سینگوں کے لیے!”
بازار میں جگہ جگہ بکرے تھے۔ کچھ بڑے، کچھ چھوٹے، کچھ کالے، کچھ سفید۔
لیکن احمد کو یقین تھا کہ سب سے خوبصورت بکرا صرف اس کا چاند ہے۔
غریب بچوں کی اداسی
گاؤں کے ایک کونے میں رحمت چچا رہتے تھے۔
وہ بہت محنتی آدمی تھے مگر غریب تھے۔ ان کے تین بچے تھے: علی، سارا اور ننھا حمزہ۔
ایک دن احمد کھیلتے کھیلتے ان کے گھر کے پاس سے گزرا۔ اس نے دیکھا کہ حمزہ خاموش بیٹھا زمین پر لکیرں بنا رہا ہے۔
احمد نے پوچھا،
“کیا ہوا؟ تم کھیل کیوں نہیں رہے؟”
حمزہ آہستہ سے بولا،
“اس بار ہمارے گھر قربانی نہیں ہوگی…”
احمد خاموش ہوگیا۔
اس نے پہلی بار محسوس کیا کہ ہر گھر میں عید ایک جیسی نہیں ہوتی۔
گھر واپس آکر بھی وہ یہی سوچتا رہا۔
چاند کی محبت
رات کو احمد چاند کے پاس بیٹھا تھا۔
چاند آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا۔ ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔
احمد نے آہستہ سے کہا،
“چاند… اگر کسی کے گھر خوشی نہ ہو تو کیا کرنا چاہیے؟”
چاند نے آہستہ سے “میں…” کہا۔
احمد کو لگا جیسے وہ کہہ رہا ہو:
“خوشی بانٹ دو…”
اسی رات احمد دیر تک سوچتا رہا۔
عید کی صبح
آخر عید آگئی۔
فجر کے بعد پورے گاؤں میں تکبیروں کی آوازیں گونجنے لگیں۔
“اللہ اکبر، اللہ اکبر…”
امی نے سویاں بنائیں۔ گھر خوشبو سے بھر گیا۔
عائشہ نئے کپڑے پہن کر گھوم رہی تھی۔
“میں کیسی لگ رہی ہوں؟”
احمد ہنس کر بولا،
“چلتی پھرتی گڑیا!”
سب عیدگاہ جانے کی تیاری کرنے لگے۔
ساتواں باب — احمد کا بڑا فیصلہ
نماز سے واپس آکر ابو صحن میں بیٹھ گئے۔
احمد آہستہ سے ان کے پاس آیا۔
“ابو… کیا ہم رحمت چچا کے بچوں کو بھی اپنی خوشی میں شامل کر سکتے ہیں؟”
ابو نے محبت سے پوچھا،
“کیسے بیٹا؟”
احمد نے نظریں جھکا لیں۔
“ہم قربانی کا زیادہ حصہ ان کے گھر بھیج دیں…”
ابو کچھ لمحے خاموش رہے۔
پھر انہوں نے احمد کے سر پر ہاتھ رکھا۔
“بیٹا، تم نے آج مجھے بہت بڑا سبق دیا ہے۔”
سب سے خوبصورت عید
جب گوشت رحمت چچا کے گھر پہنچا تو ان کے بچوں کی خوشی دیدنی تھی۔
حمزہ اچھل کر بولا،
“امی! ہماری بھی عید ہوگئی!”
رحمت چچا کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
انہوں نے کہا،
“اللہ تم لوگوں کو ہمیشہ خوش رکھے۔”
احمد دور کھڑا یہ سب دیکھ رہا تھا۔
اسے دل میں عجیب سی خوشی محسوس ہوئی… ایسی خوشی جو نئے کپڑوں یا کھلونوں سے بھی زیادہ خوبصورت تھی۔
دادی اماں کی نصیحت
رات کو سب چھت پر بیٹھے تھے۔
آسمان پر چاند چمک رہا تھا۔
دادی اماں بولیں،
“بچو! قربانی صرف جانور کی نہیں ہوتی۔ اصل قربانی اپنے دل کی خودغرضی قربان کرنا ہے۔”
عائشہ نے پوچھا،
“یعنی دوسروں کو خوش کرنا؟”
“بالکل!” دادی اماں مسکرائیں۔
نئی شروعات
اگلے دن احمد اپنے دوستوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔
اس نے سوچا:
“اگر ہر انسان دوسروں کی خوشی کا خیال رکھے تو دنیا کتنی خوبصورت بن جائے۔”
اس دن سے احمد نے فیصلہ کیا کہ وہ ہمیشہ دوسروں کی مدد کرے گا۔
اور اسی وجہ سے اس کی عید واقعی سب سے خوبصورت عید بن گئی۔
سبق
دوسروں کی خوشی میں خوش ہونا سب سے بڑی نیکی ہے۔
عید صرف نئے کپڑوں کا نام نہیں، محبت بانٹنے کا نام ہے۔
اچھے دل والے بچے دنیا کو خوبصورت بناتے ہیں۔
"ننھا دوست چاند" ایک دل کو چھو لینے والی بچوں کی اسلامی و اخلاقی کہانی ہے جس میں احمد نامی ایک ننھے بچے، اس کے پیارے بکرے "چاند" اور عیدالاضحیٰ کی خوبصورت روایات کو بیان کیا گیا ہے۔ کہانی محبت، قربانی، ہمدردی اور دوسروں کی خوشی بانٹنے کا خوبصورت پیغام دیتی ہے۔ احمد اپنے بکرے سے بے حد محبت کرتا ہے، مگر جب اسے غریب بچوں کی اداسی کا احساس ہوتا ہے تو وہ قربانی کی اصل روح سمجھتا ہے۔ یہ سبق آموز کہانی بچوں کو ایثار، سخاوت، مہربانی اور اسلامی اقدار کی اہمیت آسان اور دلچسپ انداز میں سکھاتی ہے۔


ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!