غزل
ع
عبداللہ راشد ذبیحؔ
بدھ، 20 مئی 2026
👁 28
❤️ 2
کامرانی ان کو ملتی ہے جہاں میں
جو جلائیں شوق کی شمعیں رواں میں
دل خیالِ یار سے مہکے ہمیشہ
جیسے خوشبو گھل رہی ہو گُلْستاں میں
کیا خبر کس بات پر جھگڑا ہو جائے
نفرتیں بکھری ہوئی ہیں اب جہاں میں
رکھ عقابوں سا جگر اے نو جواں تو
پھر نظر آئے گی منزل آسماں میں
مٹ کے بھی باقی رہے شہرت ہماری
ہر صدا گونجے ہماری داستاں میں
ذکر مولٰی ہو ذبیحؔ تیری زباں پر
رحمتیں برسیں گی تیرے آشیاں میں
📖 خلاصہ
یہ خوبصورت اور حوصلہ افزا کلام عبداللہ راشد ذبیح کی مثبت فکر، روحانی جذبے اور اخلاقی پیغام کا عمدہ نمونہ ہے۔ شاعر نے کامیابی، امید، محبت اور خدا کی یاد کو نہایت سادہ مگر مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔ اشع…
#پس منظر: یہ خوبصورت اور حوصلہ افزا کلام عبداللہ راشد ذبیح کی مثبت فکر
#روحانی جذبے اور اخلاقی پیغام کا عمدہ نمونہ ہے۔ شاعر نے کامیابی
#امید
#محبت اور خدا کی یاد کو نہایت سادہ مگر مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔ اشعار میں نوجوانوں کو بلند حوصلہ رکھنے
#عقاب جیسا جگر پیدا کرنے اور زندگی میں مسلسل جدوجہد کرن
عبداللہ راشد ذبیحؔ کی مزید
ہم نے ہنس کر اسے گزارا ہے
تیرا غم بھی تو اک سہارا ہے
کوئی شکوہ نہیں زمانے سے
جو ملا ہے وہی گوار...
سینوں میں قرآن ہونا چاہیے
”آدمی انسان ہونا چاہیے“
غیر سے بھی جب ملے ہنس کے ملے
ایسا ہر انسان ہو...
بہت یاد آتا ہے گزرا زمانہ
تھا وہ ہر لمہ خوشیوں کا اک خزانہ
وہ بارش میں کاغذ کی کشتی بنانا
بڑے ...
جس کی اردو زبان ہوتی ہے
اس کی باتوں میں جان ہوتی ہے
میری نظموں کی شان ہے اردو
سب زبانوں کی جان...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!