🔍 اعلی تلاش
150 نتائج ملے "ماں"
شاعری
نظم
عروس شب کي زلفيں تھيں ابھي نا آشنا خم سے
ستارے آسماں کے بے خبر تھے لذت رم سے
... زلفيں تھيں ابھي نا آشنا خم سے
ستارے آسماں کے بے خبر تھے لذت رم سے
قمر اپنے لباس نو ميں بيگانہ سا لگتا تھا
نہ تھا واق...
شاعری
غزل
رہِ وفا میں قربان کیجیے
ہماری جان پہ احسان کیجیے
... کیجیے
بھٹکتے رہتے ہیں صحرا میں بے اماں
ہمارے جذبوں کا سمّان کیجیے
گھڑی بھر اور مرے ساتھ بیٹھ کر
زمانے والوں...
شاعری
نظم
ستارہ صبح کا روتا تھا اور يہ کہتا تھا
ملي نگاہ مگر فرصت نظر نہ ملي
...ہ ملي
ہوئي ہے زندہ دم آفتاب سے ہر شے
اماں مجھي کو تہ دامن سحر نہ ملي
بساط کيا ہے بھلا صبح کے ستارے کي
نفس حباب کا ، ...
شاعری
نظم
فرقت آفتاب ميں کھاتي ہے پيچ و تاب صبح
چشم شفق ہے خوں فشاں اختر شام کے ليے
...ح مضطرب تاب دوام کے ليے
کہتا تھا قطب آسماں قافلہ نجوم سے
ہمرہو ، ميں ترس گيا لطف خرام کے ليے
سوتوں کو نديوں کا شوق ، ...
شاعری
نظم
سن اے طلب گار درد پہلو! ميں ناز ہوں ، تو نياز ہو جا
ميں غزنوي سومنات دل کا ، تو سراپا اياز ہو جا
...تہ زير گردوں کمال شان سکندري سے
تمام ساماں ہے تيرے سينے ميں ، تو بھي آئينہ ساز ہو جا
غرض ہے پيکار زندگي سے کمال پائے ہ...
نثر
افسانچہ
گھر میں مہمان آئے ہوئے تھے۔
سب لوگ بچے کی شرارتوں پر ہنس رہے تھے۔
...
سب لوگ بچے کی شرارتوں پر ہنس رہے تھے۔
ماں بار بار اُسے ڈانٹ رہی تھی۔
"چپ بیٹھو!"
اچانک بچہ خاموش ہوگیا۔
کمرے میں سک...
شاعری
نظم
رو لے اب دل کھول کر اے ديدہء خوننابہ بار
وہ نظر آتا ہے تہذيب حجازي کا مزار
...ر
داغ رويا خون کے آنسو جہاں آباد پر
آسماں نے دولت غرناطہ جب برباد کي
ابن بدروں کے دل ناشاد نے فرياد کي
غم نصيب اقبال...
شاعری
نظم
زمانہ ديکھے گا جب مرے دل سے محشر اٹھے گا گفتگو کا
مري خموشي نہيں ہے ، گويا مزار ہے حرف آرزو کا
...دا
حقيقت گل کو تو جو سمجھے تو يہ بھي پيماں ہے رنگ و بو کا
تمام مضموں مرے پرانے ، کلام ميرا خطا سراپا
ہنر کوئي ديکھت...
نثر
افسانچہ
وہ ہر نماز کے بعد لمبی دعائیں مانگتا تھا۔
ایک دن اُس کی ماں نے کہا:
... لمبی دعائیں مانگتا تھا۔
ایک دن اُس کی ماں نے کہا:
"بیٹا… کبھی میرے پاس بھی بیٹھ جایا کرو۔"
وہ بولا:
"امی! عبادت میں...
نثر
افسانچہ
بوڑھی ماں آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھ رہی تھی۔
بیٹا جھنجھلا کر بولا:
...بوڑھی ماں آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھ رہی تھی۔
بیٹا جھنجھلا کر بولا:
"امی! آپ سے اب یہ نہیں ہوتا۔"
ماں مسکرائی:
"بیٹا…
...
نثر
افسانچہ
باپ نے بیٹے کو کھلونا بندوق لا دی۔
بچہ خوش ہوکر سب پر نشانہ لگانے لگا۔
...۔
بچہ خوش ہوکر سب پر نشانہ لگانے لگا۔
ماں نے آہستہ سے کہا:
"اُسے کتاب بھی لا دیتے۔"
باپ ہنس پڑا۔
سالوں بعد
وہی بچہ...
نثر
افسانچہ
غریب رشتہ دار اچانک گھر آگئے۔
گھر والوں کے چہرے اتر گئے۔
... گھر آگئے۔
گھر والوں کے چہرے اتر گئے۔
ماں خاموشی سے کچن میں گئی اور بہترین کھانا بنایا۔
بیٹے نے حیرت سے پوچھا:
"اتنی...
نثر
افسانچہ
ماں سارا دن بچوں کے شور سے پریشان رہتی تھی۔
ہر وقت ڈانٹتی رہتی۔
...ماں سارا دن بچوں کے شور سے پریشان رہتی تھی۔
ہر وقت ڈانٹتی رہتی۔
پھر بچے بڑے ہوگئے۔
سب اپنے اپنے شہروں میں چلے گئے۔
ا...
نثر
سفرنامہ
ایک علامتی سفر نامہ
میں ایک ایسے مسافر کی کہانی لکھ رہا ہوں جو دنیا کے سب سے طویل، پراسرار اور عجیب سفر پر روانہ ہوا۔ یہ سفر نہ ریل گاڑی میں طے ہوا، نہ ہوائی جہاز میں اور نہ سمندر کے راستے؛ بلکہ یہ سفر انسان نے اپنی پہلی سانس کے ساتھ شروع کیا اور آخری سانس پر ختم کر دیا۔ اس مسافر کا نام “انسان” تھا، اور اس کی منزل “موت”۔
...اور دنیا نے مسکرا کر اس کا استقبال کیا۔ ماں کی آغوش اس کی پہلی منزل بنی، جہاں محبت کا پہلا ذائقہ ملا۔ باپ کی انگلی پکڑ ک...
شاعری
غزل
موسیٰ اگر جو دیکھے تجھ نور کا تماشا
اس کوں پہاڑ ہووے پھر طور کا تماشا
... بلند عالم از بس ہے مجھ نظر میں
جیوں آسماں عیاں ہے مجھ دور کا تماشا
تجھ عشق میں ولی کے آنچھو ابل چلے ہیں
اے بحر حسن...


