اشتہار
اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل

تیرے حق میں دعا ہوئی ہے کیا

عبدالدیان اسدؔ پیر، 18 مئی 2026
👁 40 ❤️ 2
بزم کی ابتدا ہوئی ہے کیا
تیرے حق میں دعا ہوئی ہے کیا
کیوں چھلک آئے آنکھ سے آنسو
صبر کی انتہا ہوئی ہے کیا
چارہ گر کیوں علاج کرتا ہے
غم کی کوئی دوا ہوئی ہے کیا
آسماں سرخ کیوں ہوا سرِ شام
پھر کوئی کربلا ہوئی ہے کیا
چھوڑ جانے کی بات کرتے ہو
ہم سے کوئی خطا ہوئی ہے کیا
کیوں جنازہ جھنجھوڑتے ہو تم
موت بھی بے وفا ہوئی ہے کیا
گرد چہرے پہ کیوں جمی ہے اسد
تند پھر سے ہوا ہوئی ہے کیا
📖 خلاصہ

یہ درد، سوال اور فکری گہرائی سے بھرپور غزل عبدالدیان اسد کی حساس طبیعت اور پختہ شعری شعور کا خوبصورت اظہار ہے۔ شاعر نے اس غزل میں محبت، جدائی، صبر، کرب اور انسانی بے بسی کو سوالیہ انداز میں پیش کیا ہے، جس سے اشعار میں ایک خاص تاثیر اور تجسس پیدا ہو گیا ہے۔ “آسماں سرخ کیوں ہوا سرِ شام، پھر کوئی کربلا ہوئی ہے کیا” جیسے اشعار غزل کو تاریخی اور علامتی وسعت عطا کرتے ہیں اور ظلم و درد کی اجتماعی کیفیت کو نمایاں کرتے ہیں۔ شاعر محبوب کی بے وفائی، انسان کے اندر کے غم اور زمانے کی سختیوں کو نہایت سادہ مگ

← پچھلا اگلا →
عبدالدیان اسدؔ کی مزید
اس جگہ پر جنوں مہمان ہوا کرتے ہیں جس جگہ شاہ بھی دربان ہوا کرتے ہیں زخم کو نوچ کے خوں اپنا بہاتے رہن...
کہیں پہ صدیوں پرانی آتش غضب سے اپنے بجھا رہا ہے چراغ ٹوٹا ہوا کہیں پر ہوا کی زد میں جلا رہا ہے تمام ...
”معراج بی“ کی یاد سے کتنی نمی ہے آج بیٹوں کی آنکھ نم ہے تو بیٹی دکھی ہے آج احباب رشتے دار ہیں ہمسائے...
یاس و حسرت سے ادھر آنکھ تکی جائے گی جس طرف جانِ غزل تیری گلی جائے گی دے کے آواز زمانے کو جو خاموش ہو...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن