اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
ولی دکنی پیر، 8 جون 2026
👁 6 ❤️ 0
موسیٰ اگر جو دیکھے تجھ نور کا تماشا
اس کوں پہاڑ ہووے پھر طور کا تماشا
اے رشک باغ جنت! تجھ پر نظر کئے سوں
رضواں کو ہووے دوزخ پھر حور کا تماشا
کثرت کے پھول بن میں جاتے نہیں ہیں عارف
بس ہے موحداں کوں منصور کا تماشا
وہ سر بلند عالم از بس ہے مجھ نظر میں
جیوں آسماں عیاں ہے مجھ دور کا تماشا
تجھ عشق میں ولی کے آنچھو ابل چلے ہیں
اے بحر حسن آ دیکھ اس پور کا تماشا
📖 خلاصہ

ولی دکنی کی اس غزل میں محبوب کے حسن اور نورانیت کو اس قدر بلند مقام دیا گیا ہے کہ حضرت موسیٰؑ کے واقعۂ طور کی عظمت بھی اس کے سامنے ماند پڑتی محسوس ہوتی ہے۔ شاعر محبوب کے حسن کو جنت کی نعمتوں سے برتر ق…

← پچھلا اگلا →

✍️ ولی دکنی — مختصر تعارف

ولی دکنی
📍 اورنگ آباد، مہاراشٹر، ہندوستان

ولی دکنی: اردو غزل کے اولین معمار
اردو شاعری کی تاریخ میں چند نام ایسے ہیں جنہوں نے محض شعر نہیں کہے بلکہ ایک پورے ادبی عہد کی بنیاد رکھی۔ ولی دکنی انہی عظیم شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ انہیں بجا طور پر اردو غزل کا اولین معمار، اردو شاعری کا پیش رو اور ریختہ کا سب سے مؤثر نمائندہ شاعر کہا جاتا ہے۔ اگرچہ ان سے پہلے بھی ہندوی اور ریختہ میں شاعری کی مثالیں ملتی ہیں، لیکن اردو غزل کو ایک باقاعدہ ادبی ش …

مزید پڑھیں ←
غزل کیا ہے؟

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

ولی دکنی کی مزید
کیا تجھ عشق نے ظالم خراب آہستہ آہستہ کہ آتش گل کوں کرتی ہے گلاب آہستہ آہستہ وفاداری نے داہر کی ب...
پی کے ہوتے نہ کر توں مہ کی ثنا معتبر نہیں ہے حسن دور نما باعث نشہ دو بالا ہے حسن صورت کے ساتھ ح...
موسیٰ اگر جو دیکھے تجھ نور کا تماشا اس کوں پہاڑ ہووے پھر طور کا تماشا اے رشک باغ جنت! تجھ پر نظر...
مژہ بتاں کی ہیں تجھ غم میں خواب مخمل سرخ لگ ہے ترک کے ٹپکے کوں یا مسلسل سرخ کتاب عشق پہ شنگرف اش...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن