اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
انصاری عمران احمد عبداللہ جمعہ، 22 مئی 2026
👁 15 ❤️ 0
رہِ وفا میں قربان کیجیے
ہماری جان پہ احسان کیجیے
اٹھا بھی دیں نقاب اپنے چہرے سے
ہمیں نہ اور پریشان کیجیے
ذرا سی عشق کی منزل حضور آپ
بہت کٹھن ہے جو آسان کیجیے
جنونِ شوق میں کہتے ہیں ہم جنوں
حریمِ ناز کا مہمان کیجیے
بھٹکتے رہتے ہیں صحرا میں بے اماں
ہمارے جذبوں کا سمّان کیجیے
گھڑی بھر اور مرے ساتھ بیٹھ کر
زمانے والوں کو حیران کیجیے
انا کو تھوکئے غصے کو پیجئے
فراقِ یار کو زندان کیجیے
چھڑا کے ہاتھ سے دامن حریمِ ناز
ہماری زیست نہ ویران کیجیے
📖 خلاصہ

یہ خوبصورت غزل عمران طالب کی ایک دلنشیں عاشقانہ تخلیق ہے جس میں محبت، وفا، انتظار اور جذباتی وابستگی کو نہایت نرم اور مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ شاعر محبوب سے قربت، توجہ اور محبت کی طلب کرتا ہے ا…

← پچھلا اگلا →

✍️ انصاری عمران احمد عبداللہ — مختصر تعارف

انصاری عمران احمد عبداللہ
📍 مالیگاؤں، مہاراشٹر، ہندوستان

عمران طالبؔ (اصل نام: انصاری عمران احمد عبداللہ) 12 فروری 1998 کو مالیگاؤں میں پیدا ہوئے اور وہیں کے رہنے والے ہیں۔ آپ نے اپریل 2023 سے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا اور کم مدت میں اپنی پہچان بنانے میں کامیاب رہے۔ غزل، نعت اور منقبت آپ کی پسندیدہ اصنافِ سخن ہیں۔ آپ کو منتظم عاصی سے شرفِ تلمذ حاصل ہے جس نے آپ کی فکری و ادبی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔
تعلیمی اعتبار سے آپ بارہویں جماعت تک زیرِ تعلیم ر …

مزید پڑھیں ←
غزل کیا ہے؟

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

انصاری عمران احمد عبداللہ کی مزید
فصیلِ چشم پہ اشکوں کو روکنا ہوگا خود اپنے ہاتھ سے زخموں کو نوچنا ہوگا   وقارِ عشق بچانے کے واس...
فصیلِ چشم پہ اشکوں کو روکنا ہوگا خود اپنے ہاتھ سے زخموں کو نوچنا ہوگا   وقارِ عشق بچانے کے واس...
آپ کا فیصلہ یہی ہے کیا آخری راستہ یہی ہے کیا ہجر یادیں ملال تنہائی کیا وفا کا صلہ یہی ہے کیا ...
تیری مخمور دیکھ کر آنکھیں میری ہو جاتی ہے کسر آنکھیں راہ تکتی ہے میری تر آنکھیں موندھ لیتا ہے...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن