اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
نظم
محمد اقبال پیر، 8 جون 2026
👁 8 ❤️ 0
عروس شب کي زلفيں تھيں ابھي نا آشنا خم سے
ستارے آسماں کے بے خبر تھے لذت رم سے
قمر اپنے لباس نو ميں بيگانہ سا لگتا تھا
نہ تھا واقف ابھي گردش کے آئين مسلم سے
ابھي امکاں کے ظلمت خانے سے ابھري ہي تھي دنيا
مذاق زندگي پوشيدہ تھا پہنائے عالم سے
کمال نظم ہستي کي ابھي تھي ابتدا گويا
ہويدا تھي نگينے کي تمنا چشم خاتم سے
سنا ہے عالم بالا ميں کوئي کيمياگر تھا
صفا تھي جس کي خاک پا ميں بڑھ کر ساغر جم سے
لکھا تھا عرش کے پائے پہ اک اکسير کا نسخہ
چھپاتے تھے فرشتے جس کو چشم روح آدم سے
نگاہيں تاک ميں رہتي تھيں ليکن کيمياگر کي
وہ اس نسخے کو بڑھ کر جانتا تھا اسم اعظم سے
بڑھا تسبيح خواني کے بہانے عرش کي جانب
تمنائے دلي آخر بر آئي سعي پيہم سے
پھرايا فکر اجزا نے اسے ميدان امکاں ميں
چھپے گي کيا کوئي شے بارگاہ حق کے محرم سے
چمک تارے سے مانگي ، چاند سے داغ جگر مانگا
اڑائي تيرگي تھوڑي سي شب کي زلف برہم سے
تڑپ بجلي سے پائي ، حور سے پاکيزگي پائي
حرارت لي نفسہائے مسيح ابن مريم سے
ذرا سي پھر ربوبيت سے شان بے نيازي لي
ملک سے عاجزي ، افتادگي تقدير شبنم سے
پھر ان اجزا کو گھولا چشمہء حيواں کے پاني ميں
مرکب نے محبت نام پايا عرش اعظم سے
مہوس نے يہ پاني ہستي نوخيز پر چھڑکا
گرہ کھولي ہنر نے اس کے گويا کار عالم سے
ہوئي جنبش عياں ، ذروں نے لطف خواب کو چھوڑا
گلے ملنے لگے اٹھ اٹھ کے اپنے اپنے ہمدم سے
خرام ناز پايا آفتابوں نے ، ستاروں نے
چٹک غنچوں نے پائي ، داغ پائے لالہ زاروں نے
📖 خلاصہ

اقبال محبت کو انسان کی روحانی ترقی، اخوت اور کائناتی ربط کا سرچشمہ قرار دیتے ہیں۔

← پچھلا اگلا →

✍️ محمد اقبال — مختصر تعارف

محمد اقبال
📍 سیالکوٹ (موجودہ پاکستان)

علامہ محمد اقبالؔ اردو اور فارسی ادب کے عظیم شاعر، مفکر، فلسفی اور برصغیر کے ممتاز دانشور تھے۔ آپ 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں حاصل کی، بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی جہاں آپ کو معروف مستشرق اور استاد سر تھامس آرنلڈ کی سرپرستی میسر آئی۔ مزید تعلیم کے لیے یورپ گئے، کیمبرج یونیورسٹی سے فلسفے کی تعلیم حاصل کی، میونخ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری …

مزید پڑھیں ←
نظم کیا ہے؟

نظم میں ایک مخصوص موضوع پر مسلسل خیالات بیان کیے جاتے ہیں۔ جدید اردو شاعری میں نظم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

محمد اقبال کی مزید
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا سن...
حصہ اول: ابتدائی نظمیں ہمالہ ایک آرزو پرندے کی فریاد ترانۂ ہندی نیا شوالہ تصویرِ درد نانک و...
ضربِ کلیم شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؔ کا شہرۂ آفاق شعری مجموعہ ہے جسے اقبالؔ نے "اعلانِ جنگ بر...
بالِ جبریل علامہ محمد اقبالؒ کا ایک اہم شعری مجموعہ ہے جو 1935ء میں شائع ہوا۔ یہ کتاب اقبال کے فکری ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن