اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
سفرنامہ

زندگی کا سفر (پیدائش سے موت تک)

منتظم عاصیؔ
منتظم عاصیؔ جمعرات، 7 مئی 2026
👁 6 ❤️ 0

ایک علامتی سفر نامہ
میں ایک ایسے مسافر کی کہانی لکھ رہا ہوں جو دنیا کے سب سے طویل، پراسرار اور عجیب سفر پر روانہ ہوا۔ یہ سفر نہ ریل گاڑی میں طے ہوا، نہ ہوائی جہاز میں اور نہ سمندر کے راستے؛ بلکہ یہ سفر انسان نے اپنی پہلی سانس کے ساتھ شروع کیا اور آخری سانس پر ختم کر دیا۔ اس مسافر کا نام “انسان” تھا، اور اس کی منزل “موت”۔
سفر کا آغاز ایک مختصر سے کمرے سے ہوا جہاں روشنی مدھم تھی اور فضا میں دعاؤں کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ ایک نومولود نے آنکھ کھولی اور دنیا نے مسکرا کر اس کا استقبال کیا۔ ماں کی آغوش اس کی پہلی منزل بنی، جہاں محبت کا پہلا ذائقہ ملا۔ باپ کی انگلی پکڑ کر اس نے زندگی کی شاہراہ پر پہلا قدم رکھا۔ اس وقت اُسے معلوم نہ تھا کہ یہ راستہ ہموار بھی ہوگا اور پرخار بھی۔
کچھ ہی عرصے بعد بچپن کا شہر آ گیا۔ یہ ایک رنگین بستی تھی جہاں کھلونوں کی دکانیں، تتلیوں کے تعاقب، بارش میں بھیگنے کی خوشی اور بے فکر قہقہے ہر طرف بکھرے ہوئے تھے۔ یہاں وقت بہت تیزی سے گزرتا تھا۔ صبح کھیل میں شروع ہوتی اور شام کہانیوں میں ڈھل جاتی۔ اس بستی میں نہ نفرت تھی، نہ حسد اور نہ دنیاوی مصلحتیں۔ ہر چہرہ سچا اور ہر خواب روشن تھا۔
پھر نوجوانی کا طویل اور ہنگامہ خیز علاقہ شروع ہوا۔ یہاں راستے بہت زیادہ تھے اور ہر راستہ ایک نئی خواہش کی طرف جاتا تھا۔ کہیں محبت کی وادیاں تھیں، کہیں شہرت کے مینار اور کہیں دولت کے بازار۔ اس مرحلے پر مسافر کے قدم تیز ہو گئے۔ وہ خوابوں کے تعاقب میں دوڑنے لگا۔ کبھی کامیابی کے پھول اس کے دامن میں آئے اور کبھی ناکامی کے کانٹے اس کے قدموں میں بکھر گئے۔
اسی سفر میں کچھ لوگ ہمسفر بنے۔ کچھ دیر ساتھ چلے، پھر بچھڑ گئے۔ چند چہروں نے دل پر ایسے نقوش چھوڑے جو وقت بھی نہ مٹا سکا۔ مسافر نے یہاں یہ سیکھا کہ دنیا کی سب سے بڑی حقیقت “تبدیلی” ہے۔ موسم بدلتے ہیں، راستے بدلتے ہیں اور لوگ بھی بدل جاتے ہیں۔
پھر زندگی ایک سنجیدہ موڑ پر داخل ہوئی جہاں ذمہ داریوں کے پہاڑ سامنے کھڑے تھے۔ اب مسافر کے ہاتھ میں کھلونوں کے بجائے فکر کے بوجھ تھے۔ اولاد، روزگار، معاشرہ اور مستقبل — ہر طرف فرائض کی آوازیں تھیں۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں انسان کو اپنی اصل قوت کا اندازہ ہوتا ہے۔ وہ گر کر سنبھلتا ہے، تھک کر بھی چلتا ہے اور ٹوٹ کر بھی مسکراتا ہے۔
آہستہ آہستہ شام اترنے لگی۔ بالوں میں چاندی جھلکنے لگی اور چہرے پر وقت کی تحریریں نمایاں ہونے لگیں۔ اب رفتار کم ہو گئی تھی۔ وہی شخص جو کبھی دنیا جیتنے نکلا تھا، اب خاموشی سے ماضی کی گلیوں میں بھٹکنے لگا۔ پرانی یادیں، بچھڑے ہوئے لوگ اور ادھورے خواب دل کے دریچوں پر دستک دینے لگے۔
بڑھاپا دراصل سفر کا آخری اسٹیشن ہے۔ یہاں آ کر انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ پوری زندگی ایک خواب تھی جو پلک جھپکتے گزر گئی۔ اب مسافر اکثر تنہائی میں بیٹھ کر اپنے سفر کا حساب کرنے لگتا ہے۔ اسے احساس ہوتا ہے کہ دولت، شہرت اور غرور سب یہیں رہ جانا ہے۔ ساتھ جائے گا تو صرف کردار، اعمال اور لوگوں کے دلوں میں چھوڑی ہوئی محبت۔
آخر ایک رات خاموشی سے موت آئی۔ نہ شور ہوا، نہ ہنگامہ۔ بس سانس کی ڈور ٹوٹی اور مسافر اپنی آخری منزل کی طرف روانہ ہو گیا۔ لوگ اسے کندھوں پر اٹھائے جا رہے تھے اور دنیا، جس کے لیے اُس نے پوری عمر جدوجہد کی، خاموش کھڑی تھی۔
قبرستان کی خاموش فضا میں یوں محسوس ہوتا تھا جیسے زندگی خود انسان کو نصیحت کر رہی ہو: “اے مسافر! تُو دنیا میں ہمیشہ رہنے نہیں آیا تھا، تُو تو صرف ایک سفر پر نکلا تھا۔”
یہی انسان کا سب سے بڑا سفر نامہ ہے — پیدائش سے موت تک کا سفر۔ ایک ایسا سفر جس میں خوشیاں بھی ہیں، غم بھی، فتوحات بھی اور حسرتیں بھی۔ مگر اس سفر کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ اس کا اختتام یقینی ہے۔ کامیاب وہی مسافر ہے جو راستے میں انسانیت، محبت اور نیکی کے چراغ روشن کرتا چلا جائے

✍️ منتظم عاصیؔ — مختصر تعارف

منتظم عاصیؔ
📍 مالیگاؤں، مہاراشٹر، ہندوستان

اپنی بات

محترم قارئین السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّـٰهِ وَ بَرْکَاتَہٗ
الحمداللہ.................... بفضلِ خدا وند کریم بفیض محسنِ انسانیت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور جملہ اہلِ بیت اطہار کے توسل اولیائے کاملین کے احسان سے مرشدِ پاک کی نظرِ کمال سے والدین کی دعاؤں شفقت تربیت کا اثر ہے کہ آج میں اپنی تیسری شعری ادبی کتاب طشت ازبام آپ لوگوں تک پہنچانے میں کامیاب رہا
شعر و …

مزید پڑھیں ←
منتظم عاصیؔ کی مزید تحریریں
کربلا – دسویں دن مکمل | کچھ دن ضمیر میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں
## کربلا — دسویں دن 10 محرم 1448ھ جب صبح صرف روشنی نہیں لاتی، تاریخ کا ایک با...
کربلا – نواں دن مکمل | کچھ راتیں انسان کے اندر باقی رہتی ہیں
کربلا — نواں دن 9 محرم 1448ھ بعض دن سورج سے نہیں، دل کی دھڑکن سے پہچانے جاتے ...
کربلا – آٹھواں دن مکمل | کچھ راستے انسان کو معنی دے دیتے ہیں
## کربلا — آٹھواں دن 8 محرم 1448ھ کبھی امتحان سامنے آنے سے پہلے دل اُس کی جگہ...
نشہ — انسانیت کا زوال | نشے کے سماجی، نفسیاتی اور انسانی اثرات پر طویل تحقیقی اردو مضمون
## نشہ — انسانیت کا زوال ### باب اوّل جب انسان اپنے آپ سے دور ہونے لگتا ہے ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن