🔍 اعلی تلاش
120 نتائج ملے "اقبال"
شاعری
غزل
قدم قدم پہ حوادث ہیں سر اُٹھائے ہوئے
"زمانہ ہو گیا آنکھوں کو مُسکرائے ہوئے"
...ئے ہوئے
کھڑا ہے تیز ہواؤں کے درمیاں اقبالؔ
جنوں کے راہ گزر میں دیا جلائے ہوئے...
شاعری
غزل
رنج مٹ جائے صنم، دور مرا غم ہو جائے
اک نظر تیری مرے زخم کا مرہم ہو جائے
...و جائے
اپنی ہی ذات کا عِرفان ہے مشکل اقبالؔ
روح سے جسم کا اک روز تو سنگم ہو جائے...
شاعری
غزل
ہے خطا انسان کی فطرت تو نادانی کرے
ہاں مگر اپنے گناہوں پر پشیمانی کرے
...
دل بھی اُس کا جاں بھی اُس کی اور یہ اقبالؔ بھی
اُس سے کہہ دو شوق سے آ کر وہ سلطانی کرے...
شاعری
غزل
مہربانی ہے یہ کس کی کون میرا ہوگیا
چنچلاتی دھوپ میں سایہ گھنیرا ہوگیا
...یسا حال تیرا ہوگیا
پیش کرنا تھا ابھی اقبالؔ کو طرحی کلام
مُرغ نے بانگِ سحر گائی سویرا ہوگیا...
شاعری
غزل
لُٹ گیا دل کا اثاثہ جسم پِیلا ہو گیا
شاخ پر جیسے کوئی زخمی پرندہ ہو گیا
... کیلئے بے تاب ہیں آنکھیں مری
جانے کیوں اقبالؔ مجھ سے دل گِرِفتہ ہو گیا...
شاعری
غزل
نرم و نازک ہو مخملی ہو تم
کس پرِستان کی پری ہو تم
...
میں تمہارا ہوں اور مری ہو تم
یہ تو اقبالؔ کا مقدر ہے
اُس کے آنگن کی چاندنی ہو تم...
شاعری
غزل
وہ مخالف ہو مری بات کا ایسا بھی نہیں
میری آواز میں آواز مِلاتا بھی نہیں
...نہیں
کس سے پوچھو گے خبر مُلکِ عدم کی اقبالؔ
جانے والا تو کوئی لَوٹ کے آتا بھی نہیں...
کتاب
کتب شاعری
ضربِ کلیم شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؔ کا شہرۂ آفاق شعری مجموعہ ہے جسے اقبالؔ نے "اعلانِ جنگ بر ضدِ عصرِ حاضر" قرار دیا تھا۔ اس کتاب میں مسلمانانِ عالم کی زبوں حالی، مغربی تہذیب کے اثرات، سیاسی غلامی، فکری جمود اور روحانی زوال جیسے موضوعات پر گہری بصیرت کے ساتھ اظہارِ خیال کیا گیا ہے۔
اس مجموعے کی شاعری مسلمانوں کو خود شناسی، خود اعتمادی، اجتہاد، عمل اور بیداری کا درس دیتی ہے۔ اقبالؔ نے اپنی مخصوص فلسفیانہ اور انقلابی فکر کے ذریعے نوجوان نسل کو امت کی تعمیر اور اسلامی اقدار کے احیاء کی دعوت دی ہے۔ ضربِ کلیم نہ صرف اقبالیات کا اہم سرمایہ ہے بلکہ اردو ادب میں فکری اور اصلاحی شاعری کا ایک درخشاں نمونہ بھی شمار ہوتی ہے۔
...ضربِ کلیم شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؔ کا شہرۂ آفاق شعری مجموعہ ہے جسے اقبالؔ نے "اعلانِ جنگ بر ضدِ عصرِ حاضر" قرار دیا ...
کتاب
کتب شاعری
بالِ جبریل علامہ محمد اقبالؒ کا ایک اہم شعری مجموعہ ہے جو 1935ء میں شائع ہوا۔ یہ کتاب اقبال کے فکری ارتقا کی نمائندہ تصنیف سمجھی جاتی ہے۔ اس میں شامل غزلیں، نظمیں، قطعات اور دعائیہ اشعار قاری کو خود شناسی، خدا شناسی، عشقِ رسول ﷺ، اسلامی تہذیب اور انسانی عظمت کے موضوعات سے روشناس کراتے ہیں۔
بالِ جبریل میں اقبال نے مغربی مادیت، فکری جمود اور غلامانہ ذہنیت پر تنقید کرتے ہوئے مسلمان کو خود اعتمادی، عمل، جرأت اور روحانی بلندی کی دعوت دی ہے۔ اس کتاب کا ہر صفحہ امید، حرکت اور بیداری کا پیغام دیتا ہے، اسی لیے اسے
...بالِ جبریل علامہ محمد اقبالؒ کا ایک اہم شعری مجموعہ ہے جو 1935ء میں شائع ہوا۔ یہ کتاب اقبال کے فکری ارتقا کی نمائندہ تصن...
شاعری
نظم
اے ہمالہ! اے فصيل کشور ہندوستاں
چومتا ہے تيري پيشاني کو جھک کر آسماں
اے ہمالہ! اے فصيل کشور ہندوستاں
چومتا ہے تيري پيشاني کو جھک کر آسماں
تجھ ميں کچھ پيدا نہيں ديرينہ روزي کے نشاں
تو...
شاعری
نظم
تو شناسائے خراش عقدئہ مشکل نہيں
اے گل رنگيں ترے پہلو ميں شايد دل نہيں
تو شناسائے خراش عقدئہ مشکل نہيں
اے گل رنگيں ترے پہلو ميں شايد دل نہيں
زيب محفل ہے ، شريک شورش محفل نہيں
يہ فراغت بزم...
شاعری
نظم
تھے ديار نو زمين و آسماں ميرے ليے
وسعت آغوش مادر اک جہاں ميرے ليے
تھے ديار نو زمين و آسماں ميرے ليے
وسعت آغوش مادر اک جہاں ميرے ليے
تھي ہر اک جنبش نشان لطف جاں ميرے ليے
حرف بے مطلب تھ...
شاعری
نظم
فکر انساں پر تري ہستي سے يہ روشن ہوا
ہے پر مرغ تخيل کي رسائي تا کجا
فکر انساں پر تري ہستي سے يہ روشن ہوا
ہے پر مرغ تخيل کي رسائي تا کجا
تھا سراپا روح تو ، بزم سخن پيکر ترا
زيب محفل بھي...
شاعری
نظم
ہے بلندي سے فلک بوس نشيمن ميرا
ابر کہسار ہوں گل پاش ہے دامن ميرا
ہے بلندي سے فلک بوس نشيمن ميرا
ابر کہسار ہوں گل پاش ہے دامن ميرا
کبھي صحرا ، کبھي گلزار ہے مسکن ميرا
شہر و ويرانہ مرا...
شاعری
نظم
اک دن کسي مکھي سے يہ کہنے لگا مکڑا
اس راہ سے ہوتا ہے گزر روز تمھارا
اک دن کسي مکھي سے يہ کہنے لگا مکڑا
اس راہ سے ہوتا ہے گزر روز تمھارا
ليکن مري کٹيا کي نہ جاگي کبھي قسمت
بھولے سے کبھي...


