اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
ثمامہ اقبال بدھ، 3 جون 2026
👁 10 ❤️ 0
نرم و نازک ہو مخملی ہو تم
کس پرِستان کی پری ہو تم
آئینہ ہے تمہارا دل جاناں
"کس نے تم سے کہا بُری ہو تم"
نظم ہو، گیت ہو، قصیدہ ہو
تم رُباعی ہو شاعری ہو تم
نرگس و سَوسَن و گلِ لالہ
گلِ داؤدی، کاسنی ہو تم
تم سے وابستہ زندگی ہے مری
دل کی ملکہ جو بن گئی ہو تم
تم ہو ممتاز میں ہوں شاہ جہاں
میں تمہارا ہوں اور مری ہو تم
یہ تو اقبالؔ کا مقدر ہے
اُس کے آنگن کی چاندنی ہو تم
📖 خلاصہ

ثمامہ اقبالؔ مئوی کی یہ خوبصورت رومانوی غزل محبوب کی سراپائی، عشق کی شدت اور جذباتی وابستگی کو شاعرانہ انداز میں پیش کرتی ہے۔ ہر شعر محبت اور حسن کے دلکش استعاروں سے مزین ہے۔ یہ غزل محبت، عقیدت اور م…

← پچھلا اگلا →

✍️ ثمامہ اقبال — مختصر تعارف

ثمامہ اقبال
📍 مئو ناتھ بھنجن،اترپردیس،ہندوستان

ثمامہ اقبالؔ اردو ادب کے اُن نوخیز اور باصلاحیت شعرا میں سے ہیں جو اپنے جذبات، مشاہدات اور فکری احساسات کو شعری قالب میں ڈھالنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ آپ کا قلمی نام اقبالؔ ہے، جس کے ذریعے آپ ادبی حلقوں میں اپنی شناخت قائم کر رہے ہیں۔
آپ کی ولادت 20 جون 2000ء کو مئو ناتھ بھنجن، اتر پردیش (U.P) میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم اور ادبی شعور کی نشوونما اسی علمی و تہذیبی ماحول میں ہوئی جس نے آپ کے اندر شعر و سخن …

مزید پڑھیں ←
غزل کیا ہے؟

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

ثمامہ اقبال کی مزید
مرا یہ جسم تو خالی گلاس ہے گویا کہ میرا دل تو حسینوں کے پاس ہے گویا مری شَبیہ نمایاں ہے میرے شعر...
قدم قدم پہ حوادث ہیں سر اُٹھائے ہوئے "زمانہ ہو گیا آنکھوں کو مُسکرائے ہوئے" ہماری آنکھ...
رنج مٹ جائے صنم، دور مرا غم ہو جائے اک نظر تیری مرے زخم کا مرہم ہو جائے سوکھ جائیں گے مری شوخ تم...
داستاں میری محبت کی مُکمّل کردو اپنا دیوانہ بنا کر مجھے پاگل کردو میرے بھی جسم سے خوشبوئے وفا اُ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن