اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
نظم
محمد اقبال اتوار، 7 جون 2026
👁 22 ❤️ 0
اے ہمالہ! اے فصيل کشور ہندوستاں
چومتا ہے تيري پيشاني کو جھک کر آسماں
تجھ ميں کچھ پيدا نہيں ديرينہ روزي کے نشاں
تو جواں ہے گردش شام و سحر کے درمياں
ايک جلوہ تھا کليم طور سينا کے ليے
تو تجلي ہے سراپا چشم بينا کے ليے
امتحان ديدئہ ظاہر ميں کوہستاں ہے تو
پاسباں اپنا ہے تو ، ديوار ہندستاں ہے تو
مطلع اول فلک جس کا ہو وہ ديواں ہے تو
سوئے خلوت گاہ دل دامن کش انساں ہے تو
برف نے باندھي ہے دستار فضيلت تيرے سر
خندہ زن ہے جو کلاہ مہر عالم تاب پر
تيري عمر رفتہ کي اک آن ہے عہد کہن
واديوں ميں ہيں تري کالي گھٹائيں خيمہ زن
چوٹياں تيري ثريا سے ہيں سرگرم سخن
تو زميں پر اور پہنائے فلک تيرا وطن
چشمہ دامن ترا ئنہ سےال ہے
دامن موج ہوا جس کے ليے رومال ہے
ابر کے ہاتھوں ميں رہوار ہوا کے واسطے
تازيانہ دے ديا برق سر کہسار نے
اے ہمالہ کوئي بازي گاہ ہے تو بھي ، جسے
دست قدرت نے بنايا ہے عناصر کے ليے
ہائے کيا فرط طرب ميں جھومتا جاتا ہے ابر
فيل بے زنجير کي صورت اڑا جاتا ہے ابر
جنبش موج نسيم صبح گہوارہ بني
جھومتي ہے نشہ ہستي ميں ہر گل کي کلي
يوں زبان برگ سے گويا ہے اس کي خامشي
دست گلچيں کي جھٹک ميں نے نہيں ديکھي کبھي
کہہ رہي ہے ميري خاموشي ہي افسانہ مرا
کنج خلوت خانہ قدرت ہے کاشانہ مرا
آتي ہے ندي فراز کوہ سے گاتي ہوئي
کوثر و تسنيم کي موجوں کي شرماتي ہوئي
آئنہ سا شاہد قدرت کو دکھلاتي ہوئي
سنگ رہ سے گاہ بچتي ، گاہ ٹکراتي ہوئي
چھيڑتي جا اس عراق دل نشيں کے ساز کو
اے مسافر دل سمجھتا ہے تري آواز کو
ليلي شب کھولتي ہے آ کے جب زلف رسا
دامن دل کھينچتي ہے آبشاروں کي صدا
وہ خموشي شام کي جس پر تکلم ہو فدا
وہ درختوں پر تفکر کا سماں چھايا ہوا
کانپتا پھرتا ہے کيا رنگ شفق کہسار پر
خوشنما لگتا ہے يہ غازہ ترے رخسار پر
اے ہمالہ! داستاں اس وقت کي کوئي سنا
مسکن آبائے انساں جب بنا دامن ترا
کچھ بتا اس سيدھي سادي زندگي کا ماجرا
داغ جس پر غازئہ رنگ تکلف کا نہ تھا
ہاں دکھا دے اے تصور پھر وہ صبح و شام تو
دوڑ پيچھے کي طرف اے گردش ايام تو
📖 خلاصہ

"ہمالہ" علامہ محمد اقبالؒ کی ابتدائی اور مقبول ترین نظموں میں شمار ہوتی ہے جو ان کے مجموعۂ کلام "بانگِ درا" میں شامل ہے۔ اس نظم میں اقبال نے ہمالیہ کو ہندوستان کا عظیم محافظ، فطرت …

← پچھلا اگلا →

✍️ محمد اقبال — مختصر تعارف

محمد اقبال
📍 سیالکوٹ (موجودہ پاکستان)

علامہ محمد اقبالؔ اردو اور فارسی ادب کے عظیم شاعر، مفکر، فلسفی اور برصغیر کے ممتاز دانشور تھے۔ آپ 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں حاصل کی، بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی جہاں آپ کو معروف مستشرق اور استاد سر تھامس آرنلڈ کی سرپرستی میسر آئی۔ مزید تعلیم کے لیے یورپ گئے، کیمبرج یونیورسٹی سے فلسفے کی تعلیم حاصل کی، میونخ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری …

مزید پڑھیں ←
نظم کیا ہے؟

نظم میں ایک مخصوص موضوع پر مسلسل خیالات بیان کیے جاتے ہیں۔ جدید اردو شاعری میں نظم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

محمد اقبال کی مزید
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا سن...
حصہ اول: ابتدائی نظمیں ہمالہ ایک آرزو پرندے کی فریاد ترانۂ ہندی نیا شوالہ تصویرِ درد نانک و...
ضربِ کلیم شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؔ کا شہرۂ آفاق شعری مجموعہ ہے جسے اقبالؔ نے "اعلانِ جنگ بر...
بالِ جبریل علامہ محمد اقبالؒ کا ایک اہم شعری مجموعہ ہے جو 1935ء میں شائع ہوا۔ یہ کتاب اقبال کے فکری ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن