اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
نظم
محمد اقبال اتوار، 7 جون 2026
👁 15 ❤️ 0
فکر انساں پر تري ہستي سے يہ روشن ہوا
ہے پر مرغ تخيل کي رسائي تا کجا
تھا سراپا روح تو ، بزم سخن پيکر ترا
زيب محفل بھي رہا محفل سے پنہاں بھي رہا
ديد تيري آنکھ کو اس حسن کي منظور ہے
بن کے سوز زندگي ہر شے ميں جو مستور ہے
محفل ہستي تري بربط سے ہے سرمايہ دار
جس طرح ندي کے نغموں سے سکوت کوہسار
تيرے فردوس تخيل سے ہے قدرت کي بہار
تيري کشت فکر سے اگتے ہيں عالم سبزہ وار
زندگي مضمر ہے تيري شوخي تحرير ميں
تاب گويائي سے جنبش ہے لب تصوير ميں
نطق کو سو ناز ہيں تيرے لب اعجاز پر
محو حيرت ہے ثريا رفعت پرواز پر
شاہد مضموں تصدق ہے ترے انداز پر
خندہ زن ہے غنچہ دلي گل شيراز پر
آہ! تو اجڑي ہوئي دلي ميں آراميدہ ہے
گلشن ويمر ميں تيرا ہم نوا خوابيدہ ہے
لطف گويائي ميں تيري ہمسري ممکن نہيں
ہو تخيل کا نہ جب تک فکر کامل ہم نشيں
ہائے! اب کيا ہو گئي ہندوستاں کي سر زميں
آہ! اے نظارہ آموز نگاہ نکتہ بيں
گيسوئے اردو ابھي منت پذير شانہ ہے
شمع يہ سودائي دل سوزي پروانہ ہے
اے جہان آباد ، اے گہوارہ علم و ہنر
ہيں سراپا نالہ خاموش تيرے بام و در
ذرے ذرے ميں ترے خوابيدہ ہيں شمں و قمر
يوں تو پوشيدہ ہيں تيري خاک ميں لاکھوں گہر
دفن تجھ ميں کوئي فخر روزگار ايسا بھي ہے؟
تجھ ميں پنہاں کوئي موتي آبدار ايسا بھي ہے؟
📖 خلاصہ

یہ نظم مرزا غالب کی شخصیت اور شاعری کے اعتراف میں لکھی گئی ہے۔ علامہ اقبال غالب کو ایک ایسی نابغۂ روزگار ہستی قرار دیتے ہیں جس کے تخیل اور فکر نے اردو ادب کو نئی وسعتیں عطا کیں۔ نظم میں غالب کی فکری ب…

← پچھلا اگلا →

✍️ محمد اقبال — مختصر تعارف

محمد اقبال
📍 سیالکوٹ (موجودہ پاکستان)

علامہ محمد اقبالؔ اردو اور فارسی ادب کے عظیم شاعر، مفکر، فلسفی اور برصغیر کے ممتاز دانشور تھے۔ آپ 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں حاصل کی، بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی جہاں آپ کو معروف مستشرق اور استاد سر تھامس آرنلڈ کی سرپرستی میسر آئی۔ مزید تعلیم کے لیے یورپ گئے، کیمبرج یونیورسٹی سے فلسفے کی تعلیم حاصل کی، میونخ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری …

مزید پڑھیں ←
نظم کیا ہے؟

نظم میں ایک مخصوص موضوع پر مسلسل خیالات بیان کیے جاتے ہیں۔ جدید اردو شاعری میں نظم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

محمد اقبال کی مزید
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا سن...
حصہ اول: ابتدائی نظمیں ہمالہ ایک آرزو پرندے کی فریاد ترانۂ ہندی نیا شوالہ تصویرِ درد نانک و...
ضربِ کلیم شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؔ کا شہرۂ آفاق شعری مجموعہ ہے جسے اقبالؔ نے "اعلانِ جنگ بر...
بالِ جبریل علامہ محمد اقبالؒ کا ایک اہم شعری مجموعہ ہے جو 1935ء میں شائع ہوا۔ یہ کتاب اقبال کے فکری ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن