اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
ثمامہ اقبال پیر، 1 جون 2026
👁 12 ❤️ 0
قدم قدم پہ حوادث ہیں سر اُٹھائے ہوئے
"زمانہ ہو گیا آنکھوں کو مُسکرائے ہوئے"
ہماری آنکھ سے ٹپکے ہوئے یہ آنسو ہیں
ستارے شام کی زُلفوں میں جگمگائے ہوئے
شُعورِ عصر کے ماتھے پہ سِلوٹیں کیوں ہیں
میں ایک شہر محبت کا ہوں بسائے ہوئے
فضائے شعر و سُخن راس اب نہیں آتی
زمانہ ہو گیا اک شعر گنگنائے ہوئے
شبِ فراق تری شوخئ خیال کے بُت
نگاہِ شوق میں بیٹھے ہیں سر جھکائے ہوئے
ذہینِ گردشِ حالات ہیں یہ سچ ہے! مگر
کسی کے عشق میں ہم خود کو ہیں مٹائے ہوئے
کھڑا ہے تیز ہواؤں کے درمیاں اقبالؔ
جنوں کے راہ گزر میں دیا جلائے ہوئے
📖 خلاصہ

حوادثِ زمانہ، عشق اور امید کا استعارہ | ثمامہ اقبال کی فکر انگیز غزل ثمامہ اقبال کی یہ خوبصورت غزل زندگی کے حوادث، عشق کی وارفتگی، فراق کی کیفیات اور امید کے استعاروں کو سموئے ہوئے ہے۔ شاعر نے جدید…

← پچھلا اگلا →

✍️ ثمامہ اقبال — مختصر تعارف

ثمامہ اقبال
📍 مئو ناتھ بھنجن،اترپردیس،ہندوستان

ثمامہ اقبالؔ اردو ادب کے اُن نوخیز اور باصلاحیت شعرا میں سے ہیں جو اپنے جذبات، مشاہدات اور فکری احساسات کو شعری قالب میں ڈھالنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ آپ کا قلمی نام اقبالؔ ہے، جس کے ذریعے آپ ادبی حلقوں میں اپنی شناخت قائم کر رہے ہیں۔
آپ کی ولادت 20 جون 2000ء کو مئو ناتھ بھنجن، اتر پردیش (U.P) میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم اور ادبی شعور کی نشوونما اسی علمی و تہذیبی ماحول میں ہوئی جس نے آپ کے اندر شعر و سخن …

مزید پڑھیں ←
غزل کیا ہے؟

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

ثمامہ اقبال کی مزید
مرا یہ جسم تو خالی گلاس ہے گویا کہ میرا دل تو حسینوں کے پاس ہے گویا مری شَبیہ نمایاں ہے میرے شعر...
قدم قدم پہ حوادث ہیں سر اُٹھائے ہوئے "زمانہ ہو گیا آنکھوں کو مُسکرائے ہوئے" ہماری آنکھ...
رنج مٹ جائے صنم، دور مرا غم ہو جائے اک نظر تیری مرے زخم کا مرہم ہو جائے سوکھ جائیں گے مری شوخ تم...
داستاں میری محبت کی مُکمّل کردو اپنا دیوانہ بنا کر مجھے پاگل کردو میرے بھی جسم سے خوشبوئے وفا اُ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن