نظم
محمد اقبال
پیر، 8 جون 2026
👁 13
❤️ 0
ہے بلندي سے فلک بوس نشيمن ميرا
ابر کہسار ہوں گل پاش ہے دامن ميرا
کبھي صحرا ، کبھي گلزار ہے مسکن ميرا
شہر و ويرانہ مرا ، بحر مرا ، بن ميرا
کسي وادي ميں جو منظور ہو سونا مجھ کو
سبزہ کوہ ہے مخمل کا بچھونا مجھ کو
مجھ کو قدرت نے سکھايا ہے درافشاں ہونا
ناقہ شاہد رحمت کا حدي خواں ہونا
غم زدائے دل افسردہ دہقاں ہونا
رونق بزم جوانان گلستاں ہونا
بن کے گيسو رخ ہستي پہ بکھر جاتا ہوں
شانہ موجہ صرصر سے سنور جاتا ہوں
دور سے ديدہ اميد کو ترساتا ہوں
کسي بستي سے جو خاموش گزر جاتا ہوں
سير کرتا ہوا جس دم لب جو آتا ہوں
بالياں نہر کو گرداب کي پہناتا ہوں
سبزہ مزرع نوخيز کي اميد ہوں ميں
زادہ بحر ہوں پروردہ خورشيد ہوں ميں
چشمہ کوہ کو دي شورش قلزم ميں نے
اور پرندوں کو کيا محو ترنم ميں نے
سر پہ سبزے کے کھڑے ہو کے کہا قم ميں نے
غنچہ گل کو ديا ذوق تبسم ميں نے
فيض سے ميرے نمونے ہيں شبستانوں کے
جھونپڑے دامن کہسار ميں دہقانوں کے
📖 خلاصہ
نظم میں فطرت کے حسن، بادلوں کی روانی اور قدرت کے دلکش مناظر بیان ہوئے ہیں۔
✍️ محمد اقبال — مختصر تعارف
📍 سیالکوٹ (موجودہ پاکستان)
علامہ محمد اقبالؔ اردو اور فارسی ادب کے عظیم شاعر، مفکر، فلسفی اور برصغیر کے ممتاز دانشور تھے۔ آپ 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں حاصل کی، بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی جہاں آپ کو معروف مستشرق اور استاد سر تھامس آرنلڈ کی سرپرستی میسر آئی۔ مزید تعلیم کے لیے یورپ گئے، کیمبرج یونیورسٹی سے فلسفے کی تعلیم حاصل کی، میونخ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری …
مزید پڑھیں ←
نظم کیا ہے؟
نظم میں ایک مخصوص موضوع پر مسلسل خیالات بیان کیے جاتے ہیں۔ جدید اردو شاعری میں نظم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
محمد اقبال کی مزید
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سن...
حصہ اول: ابتدائی نظمیں
ہمالہ
ایک آرزو
پرندے کی فریاد
ترانۂ ہندی
نیا شوالہ
تصویرِ درد
نانک
و...
ضربِ کلیم شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؔ کا شہرۂ آفاق شعری مجموعہ ہے جسے اقبالؔ نے "اعلانِ جنگ بر...
بالِ جبریل علامہ محمد اقبالؒ کا ایک اہم شعری مجموعہ ہے جو 1935ء میں شائع ہوا۔ یہ کتاب اقبال کے فکری ...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!