🔍 اعلی تلاش
97 نتائج ملے "درد"
شاعری
قطعہ
مزہ ہے کتنا کبھی آزما کے دیکھوں گا
کسی کے ہجر میں آنسو بہا کے دیکھوں گا
...بہا کے دیکھوں گا
مرے گا کون یہاں کون درد پائے گا
قسم میں جھوٹی زمانے کی کھا کے دیکھوں گا
لگیں گے پھول حسد بغض کی...
شاعری
غزل
طشتِ ازبام حوصلہ بھیجو
میرا مطلب ہے شکریہ بھیجو
...بنے کو ہے
اپنی یادوں کے ناخدا بھیجو
درد مقبول ہو رہا ہے مرا
زخم تم پھر کوئی ہرا بھیجو
جن کو جو کہنا ہے وہ کہنے د...
شاعری
نظم
تھے ديار نو زمين و آسماں ميرے ليے
وسعت آغوش مادر اک جہاں ميرے ليے
...حرف بے مطلب تھي خود ميري زباں ميرے ليے
درد ، طفلي ميں اگر کوئي رلاتا تھا مجھے
شورش زنجير در ميں لطف آتا تھا مجھے
تکتے...
شاعری
قطعہ
سب کی باتوں کو سُن رہا ہوں مگر
لوگ کہتے ہیں مر گیا ہوں میں
...پردہ
تم تو کہتے تھے پارسا ہوں میں
درد اِنعامِ بے وفائی ہے
گر یہ سچ ہے تو بے وفا ہوں میں
خود سنبھلنے کی لاکھ کو...
شاعری
قطعہ
رسم و تہذیب و تمدن ہے دعا کی تحقیق
عظمت اقبال نے کی ظرفِ قلم کی تصدیق
...
عظمت اقبال نے کی ظرفِ قلم کی تصدیق
درد احساس وفا عشق انا وصل و فراق
سات رنگوں کی کہانی ہے ادھوری تخلیق...
شاعری
نظم
لب پہ آتي ہے دعا بن کے تمنا ميري
زندگي شمع کي صورت ہو خدايا ميري
...يا رب
ہو مرا کام غريبوں کي حمايت کرنا
دردمندوں سے ضعيفوں سے محبت کرنا
مرے اللہ! برائي سے بچانا مجھ کو
نيک جو راہ ہو ...
شاعری
نظم
ٹہني پہ کسي شجر کي تنہا
بلبل تھا کوئي اداس بيٹھا
ٹہني پہ کسي شجر کي تنہا
بلبل تھا کوئي اداس بيٹھا
کہتا تھا کہ رات سر پہ آئي
اڑنے چگنے ميں دن گزارا
پہنچوں کس طرح آشيا...
شاعری
نظم
مہر روشن چھپ گيا ، اٹھي نقاب روئے شام
شانہ ہستي پہ ہے بکھرا ہوا گيسوئے شام
... چمن روتا نہيں؟
اس جہاں کي طرح واں بھي درد دل ہوتا نہيں؟
باغ ہے فردوس يا اک منزل آرام ہے؟
يا رخ بے پردہ حسن ازل کا نا...
شاعری
نظم
جل رہا ہوں کل نہيں پڑتي کسي پہلو مجھے
ہاں ڈبو دے اے محيط آب گنگا تو مجھے
جل رہا ہوں کل نہيں پڑتي کسي پہلو مجھے
ہاں ڈبو دے اے محيط آب گنگا تو مجھے
سرزميں اپني قيامت کي نفاق انگيز ہے
وصل کيسا...
شاعری
نظم
بزم جہاں ميں ميں بھي ہوں اے شمع! دردمند
فرياد در گرہ صفت دانہ سپند
...بزم جہاں ميں ميں بھي ہوں اے شمع! دردمند
فرياد در گرہ صفت دانہ سپند
دي عشق نے حرارت سوز دروں تجھے
اور گل فروش اشک شفق ...
شاعری
نظم
دنيا کي محفلوں سے اکتا گيا ہوں يا رب
کيا لطف انجمن کا جب دل ہي بجھ گيا ہو
...
تاروں کے قافلے کو ميري صدا درا ہو
ہر دردمند دل کو رونا مرا رلا دے
بے ہوش جو پڑے ہيں ، شايد انھيں جگا دے...
شاعری
نظم
شورش ميخانہ انساں سے بالاتر ہے تو
زينت بزم فلک ہو جس سے وہ ساغر ہے تو
...ا آئينہ ہو ، دل ميرا نہ ہو
سر ميں جز ہمدردي انساں کوئي سودا نہ ہو
تو اگر زحمت کش ہنگامہ عالم نہيں
يہ فضيلت کا نشاں اے...
شاعری
نظم
اے درد عشق! ہے گہر آب دار تو
نامحرموں ميں ديکھ نہ ہو آشکار تو
...اے درد عشق! ہے گہر آب دار تو
نامحرموں ميں ديکھ نہ ہو آشکار تو
پنہاں تہ نقاب تري جلوہ گاہ ہے
ظاہر پرست محفل نو کي نگاہ...
شاعری
نظم
سہاني نمود جہاں کي گھڑي تھي
تبسم فشاں زندگي کي کلي تھي
...ونا
ہنسي گل کو پہلے پہل آ رہي تھي
عطا درد ہوتا تھا شاعر کے دل کو
خودي تشنہ کام مے بے خودي تھي
اٹھي اول اول گھٹا کالي...
شاعری
نظم
اک مولوي صاحب کي سناتا ہوں کہاني
تيزي نہيں منظور طبيعت کي دکھاني
...زہد سے تھي دل کي صراحي
تھي تہ ميں کہيں درد خيال ہمہ داني
کرتے تھے بياں آپ کرامات کا اپني
منظور تھي تعداد مريدوں کي بڑ...


