نظم
محمد اقبال
پیر، 8 جون 2026
👁 9
❤️ 0
سہاني نمود جہاں کي گھڑي تھي
تبسم فشاں زندگي کي کلي تھي
کہيں مہر کو تاج زر مل رہا تھا
عطا چاند کو چاندني ہو رہي تھي
سيہ پيرہن شام کو دے رہے تھے
ستاروں کو تعليم تابندگي تھي
کہيں شاخ ہستي کو لگتے تھے پتے
کہيں زندگي کي کلي پھوٹتي تھي
فرشتے سکھاتے تھے شبنم کو رونا
ہنسي گل کو پہلے پہل آ رہي تھي
عطا درد ہوتا تھا شاعر کے دل کو
خودي تشنہ کام مے بے خودي تھي
اٹھي اول اول گھٹا کالي کالي
کوئي حور چوٹي کو کھولے کھڑي تھي
زميں کو تھا دعوي کہ ميں آسماں ہوں
مکاں کہہ رہا تھا کہ ميں لا مکاں ہوں
غرض اس قدر يہ نظارہ تھا پيارا
کہ نظارگي ہو سراپا نظارا
ملک آزماتے تھے پرواز اپني
جبينوں سے نور ازل آشکارا
فرشتہ تھا اک ، عشق تھا نام جس کا
کہ تھي رہبري اس کي سب کا سہارا
فرشتہ کہ پتلا تھا بے تابيوں کا
ملک کا ملک اور پارے کا پارا
پے سير فردوس کو جا رہا تھا
قضا سے ملا راہ ميں وہ قضا را
يہ پوچھا ترا نام کيا ، کام کيا ہے
نہيں آنکھ کو ديد تيري گوارا
ہوا سن کے گويا قضا کا فرشتہ
اجل ہوں ، مرا کام ہے آشکارا
اڑاتي ہوں ميں رخت ہستي کے پرزے
بجھاتي ہوں ميں زندگي کا شرارا
مري آنکھ ميں جادوئے نيستي ہے
پيام فنا ہے اسي کا اشارا
مگر ايک ہستي ہے دنيا ميں ايسي
وہ آتش ہے ميں سامنے اس کے پارا
شرر بن کے رہتي ہے انساں کے دل ميں
وہ ہے نور مطلق کي آنکھوں کا تارا
ٹپکتي ہے آنکھوں سے بن بن کے آنسو
وہ آنسو کہ ہو جن کي تلخي گوارا
سني عشق نے گفتگو جب قضا کي
ہنسي اس کے لب پر ہوئي آشکارا
گري اس تبسم کي بجلي اجل پر
اندھيرے کا ہو نور ميں کيا گزارا!
بقا کو جو ديکھا فنا ہو گئي وہ
قضا تھي شکار قضا ہو گئي وہ
📖 خلاصہ
اقبال اس نظم میں عشق کو زندگی کی اصل قوت اور موت پر غالب حقیقت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
✍️ محمد اقبال — مختصر تعارف
📍 سیالکوٹ (موجودہ پاکستان)
علامہ محمد اقبالؔ اردو اور فارسی ادب کے عظیم شاعر، مفکر، فلسفی اور برصغیر کے ممتاز دانشور تھے۔ آپ 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں حاصل کی، بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی جہاں آپ کو معروف مستشرق اور استاد سر تھامس آرنلڈ کی سرپرستی میسر آئی۔ مزید تعلیم کے لیے یورپ گئے، کیمبرج یونیورسٹی سے فلسفے کی تعلیم حاصل کی، میونخ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری …
مزید پڑھیں ←
نظم کیا ہے؟
نظم میں ایک مخصوص موضوع پر مسلسل خیالات بیان کیے جاتے ہیں۔ جدید اردو شاعری میں نظم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
محمد اقبال کی مزید
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سن...
حصہ اول: ابتدائی نظمیں
ہمالہ
ایک آرزو
پرندے کی فریاد
ترانۂ ہندی
نیا شوالہ
تصویرِ درد
نانک
و...
ضربِ کلیم شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؔ کا شہرۂ آفاق شعری مجموعہ ہے جسے اقبالؔ نے "اعلانِ جنگ بر...
بالِ جبریل علامہ محمد اقبالؒ کا ایک اہم شعری مجموعہ ہے جو 1935ء میں شائع ہوا۔ یہ کتاب اقبال کے فکری ...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!