نظم
محمد اقبال
پیر، 8 جون 2026
👁 7
❤️ 0
مہر روشن چھپ گيا ، اٹھي نقاب روئے شام
شانہ ہستي پہ ہے بکھرا ہوا گيسوئے شام
يہ سيہ پوشي کي تياري کس کے غم ميں ہے
محفل قدرت مگر خورشيد کے ماتم ميں ہے
کر رہا ہے آسماں جادو لب گفتار پر
ساحر شب کي نظر ہے ديدہ بيدار پر
غوطہ زن درياے خاموشي ميں ہے موج ہوا
ہاں ، مگر اک دور سے آتي ہے آواز درا
دل کہ ہے بے تابي الفت ميں دنيا سے نفور
کھنچ لايا ہے مجھے ہنگامہ عالم سے دور
منظر حرماں نصيبي کا تماشائي ہوں ميں
ہم نشين خفتگان کنج تنہائي ہوں ميں
تھم ذرا بے تابي دل! بيٹھ جانے دے مجھے
اور اس بستي پہ چار آ نسو گرانے دے مجھے
اے مے غفلت کے سر مستو ، کہاں رہتے ہو تم
کچھ کہو اس ديس کي آ خر ، جہاں رہتے ہو تم
وہ بھي حيرت خانہ امروز و فردا ہے کوئي؟
اور پيکار عناصر کا تماشا ہے کوئي؟
آدمي واں بھي حصار غم ميں ہے محصور کيا؟
اس ولا يت ميں بھي ہے انساں کا دل مجبور کيا؟
واں بھي جل مرتا ہے سوز شمع پر پروانہ کيا؟
اس چمن ميں بھي گل و بلبل کا ہے افسانہ کيا؟
ياں تو اک مصرع ميں پہلو سے نکل جاتا ہے دل
شعر کي گر مي سے کيا واں بھي پگل جاتاہے دل؟
رشتہ و پيوند ياں کے جان کا آزار ہيں
اس گلستاں ميں بھي کيا ايسے نکيلے خار ہيں؟
اس جہاں ميں اک معيشت اور سو افتاد ہے
روح کيا اس ديس ميں اس فکر سے آزاد ہے؟
کيا وہاں بجلي بھي ہے ، دہقاں بھي ہے ، خرمن بھي ہے؟
قافلے والے بھي ہيں ، انديشہ رہزن بھي ہے؟
تنکے چنتے ہيں و ہاں بھي آ شياں کے واسطے؟
خشت و گل کي فکر ہوتي ہے مکاں کے واسطے؟
واں بھي انساں اپني اصليت سے بيگانے ہيں کيا؟
امتياز ملت و آئيں کے ديوانے ہيں کيا؟
واں بھي کيا فرياد بلبل پر چمن روتا نہيں؟
اس جہاں کي طرح واں بھي درد دل ہوتا نہيں؟
باغ ہے فردوس يا اک منزل آرام ہے؟
يا رخ بے پردہ حسن ازل کا نام ہے؟
کيا جہنم معصيت سوزي کي اک ترکيب ہے؟
آگ کے شعلوں ميں پنہاں مقصد تاويب ہے؟
کيا عوض رفتار کے اس ديس ميں پرواز ہے؟
موت کہتے ہيں جسے اہل زميں ، کيا راز ہے ؟
اضطراب دل کا ساماں ياں کي ہست و بود ہے
علم انساں اس ولايت ميں بھي کيا محدود ہے؟
ديد سے تسکين پاتا ہے دل مہجور بھي؟
'لن تراني' کہہ رہے ہيں يا وہاں کے طور بھي؟
جستجو ميں ہے وہاں بھي روح کو آرام کيا؟
واں بھي انساں ہے قتيل ذوق استفہام کيا؟
آہ! وہ کشور بھي تاريکي سے کيا معمور ہے؟
يا محبت کي تجلي سے سراپا نور ہے؟
تم بتا دو راز جو اس گنبد گرداں ميں ہے
موت اک چبھتا ہوا کانٹا دل انساں ميں ہے
📖 خلاصہ
نظم انسان کو موت، حیات اور کائنات کے حقائق پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔
✍️ محمد اقبال — مختصر تعارف
📍 سیالکوٹ (موجودہ پاکستان)
علامہ محمد اقبالؔ اردو اور فارسی ادب کے عظیم شاعر، مفکر، فلسفی اور برصغیر کے ممتاز دانشور تھے۔ آپ 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں حاصل کی، بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی جہاں آپ کو معروف مستشرق اور استاد سر تھامس آرنلڈ کی سرپرستی میسر آئی۔ مزید تعلیم کے لیے یورپ گئے، کیمبرج یونیورسٹی سے فلسفے کی تعلیم حاصل کی، میونخ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری …
مزید پڑھیں ←
نظم کیا ہے؟
نظم میں ایک مخصوص موضوع پر مسلسل خیالات بیان کیے جاتے ہیں۔ جدید اردو شاعری میں نظم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
محمد اقبال کی مزید
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سن...
حصہ اول: ابتدائی نظمیں
ہمالہ
ایک آرزو
پرندے کی فریاد
ترانۂ ہندی
نیا شوالہ
تصویرِ درد
نانک
و...
ضربِ کلیم شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؔ کا شہرۂ آفاق شعری مجموعہ ہے جسے اقبالؔ نے "اعلانِ جنگ بر...
بالِ جبریل علامہ محمد اقبالؒ کا ایک اہم شعری مجموعہ ہے جو 1935ء میں شائع ہوا۔ یہ کتاب اقبال کے فکری ...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!