اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
نظم
محمد اقبال پیر، 8 جون 2026
👁 8 ❤️ 0
دنيا کي محفلوں سے اکتا گيا ہوں يا رب
کيا لطف انجمن کا جب دل ہي بجھ گيا ہو
شورش سے بھاگتا ہوں ، دل ڈھونڈتا ہے ميرا
ايسا سکوت جس پر تقرير بھي فدا ہو
مرتا ہوں خامشي پر ، يہ آرزو ہے ميري
دامن ميں کوہ کے اک چھوٹا سا جھونپڑا ہو
آزاد فکر سے ہوں ، عزلت ميں دن گزاروں
دنيا کے غم کا دل سے کانٹا نکل گيا ہو
لذت سرود کي ہو چڑيوں کے چہچہوں ميں
چشمے کي شورشوں ميں باجا سا بج رہا ہو
گل کي کلي چٹک کر پيغام دے کسي کا
ساغر ذرا سا گويا مجھ کو جہاں نما ہو
ہو ہاتھ کا سرھانا سبزے کا ہو بچھونا
شرمائے جس سے جلوت ، خلوت ميں وہ ادا ہو
مانوس اس قدر ہو صورت سے ميري بلبل
ننھے سے دل ميں اس کے کھٹکا نہ کچھ مرا ہو
صف باندھے دونوں جانب بوٹے ہرے ہرے ہوں
ندي کا صاف پاني تصوير لے رہا ہو
ہو دل فريب ايسا کہسار کا نظارہ
پاني بھي موج بن کر اٹھ اٹھ کے ديکھتا ہو
آغوش ميں زميں کي سويا ہوا ہو سبزہ
پھر پھر کے جھاڑيوں ميں پاني چمک رہا ہو
پاني کو چھو رہي ہو جھک جھک کے گل کي ٹہني
جيسے حسين کوئي آئينہ ديکھتا ہو
مہندي لگائے سورج جب شام کي دلھن کو
سرخي ليے سنہري ہر پھول کي قبا ہو
راتوں کو چلنے والے رہ جائيں تھک کے جس دم
اميد ان کي ميرا ٹوٹا ہوا ديا ہو
بجلي چمک کے ان کو کٹيا مري دکھا دے
جب آسماں پہ ہر سو بادل گھرا ہوا ہو
پچھلے پہر کي کوئل ، وہ صبح کي مؤذن
ميں اس کا ہم نوا ہوں ، وہ ميري ہم نوا ہو
کانوں پہ ہو نہ ميرے دير وحرم کا احساں
روزن ہي جھونپڑي کا مجھ کو سحر نما ہو
پھولوں کو آئے جس دم شبنم وضو کرانے
رونا مرا وضو ہو ، نالہ مري دعا ہو
اس خامشي ميں جائيں اتنے بلند نالے
تاروں کے قافلے کو ميري صدا درا ہو
ہر دردمند دل کو رونا مرا رلا دے
بے ہوش جو پڑے ہيں ، شايد انھيں جگا دے
📖 خلاصہ

اس نظم میں شاعر کی بلند آرزوؤں اور مثالی خواہشات کی عکاسی کی گئی ہے۔

← پچھلا اگلا →

✍️ محمد اقبال — مختصر تعارف

محمد اقبال
📍 سیالکوٹ (موجودہ پاکستان)

علامہ محمد اقبالؔ اردو اور فارسی ادب کے عظیم شاعر، مفکر، فلسفی اور برصغیر کے ممتاز دانشور تھے۔ آپ 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں حاصل کی، بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی جہاں آپ کو معروف مستشرق اور استاد سر تھامس آرنلڈ کی سرپرستی میسر آئی۔ مزید تعلیم کے لیے یورپ گئے، کیمبرج یونیورسٹی سے فلسفے کی تعلیم حاصل کی، میونخ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری …

مزید پڑھیں ←
نظم کیا ہے؟

نظم میں ایک مخصوص موضوع پر مسلسل خیالات بیان کیے جاتے ہیں۔ جدید اردو شاعری میں نظم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

محمد اقبال کی مزید
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا سن...
حصہ اول: ابتدائی نظمیں ہمالہ ایک آرزو پرندے کی فریاد ترانۂ ہندی نیا شوالہ تصویرِ درد نانک و...
ضربِ کلیم شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؔ کا شہرۂ آفاق شعری مجموعہ ہے جسے اقبالؔ نے "اعلانِ جنگ بر...
بالِ جبریل علامہ محمد اقبالؒ کا ایک اہم شعری مجموعہ ہے جو 1935ء میں شائع ہوا۔ یہ کتاب اقبال کے فکری ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن