اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
نظم
محمد اقبال پیر، 8 جون 2026
👁 21 ❤️ 0
اک مولوي صاحب کي سناتا ہوں کہاني
تيزي نہيں منظور طبيعت کي دکھاني
شہرہ تھا بہت آپ کي صوفي منشي کا
کرتے تھے ادب ان کا اعالي و اداني
کہتے تھے کہ پنہاں ہے تصوف ميں شريعت
جس طرح کہ الفاظ ميں مضمر ہوں معاني
لبريز مےء زہد سے تھي دل کي صراحي
تھي تہ ميں کہيں درد خيال ہمہ داني
کرتے تھے بياں آپ کرامات کا اپني
منظور تھي تعداد مريدوں کي بڑھاني
مدت سے رہا کرتے تھے ہمسائے ميں ميرے
تھي رند سے زاہد کي ملاقات پراني
حضرت نے مرے ايک شناسا سے يہ پوچھا
اقبال ، کہ ہے قمري شمشاد معاني
پابندي احکام شريعت ميں ہے کيسا؟
گو شعر ميں ہے رشک کليم ہمداني
سنتا ہوں کہ کافر نہيں ہندو کو سمجھتا
ہے ايسا عقيدہ اثر فلسفہ داني
ہے اس کي طبيعت ميں تشيع بھي ذرا سا
تفضيل علي ہم نے سني اس کي زباني
سمجھا ہے کہ ہے راگ عبادات ميں داخل
مقصود ہے مذہب کي مگر خاک اڑاني
کچھ عار اسے حسن فروشوں سے نہيں ہے
عادت يہ ہمارے شعرا کي ہے پراني
گانا جو ہے شب کو تو سحر کو ہے تلاوت
اس رمز کے اب تک نہ کھلے ہم پہ معاني
ليکن يہ سنا اپنے مريدوں سے ہے ميں نے
بے داغ ہے مانند سحر اس کي جواني
مجموعہ اضداد ہے ، اقبال نہيں ہے
دل دفتر حکمت ہے ، طبيعت خفقاني
رندي سے بھي آگاہ شريعت سے بھي واقف
پوچھو جو تصوف کي تو منصور کا ثاني
اس شخص کي ہم پر تو حقيقت نہيں کھلتي
ہو گا يہ کسي اور ہي اسلام کا باني
القصہ بہت طول ديا وعظ کو اپنے
تا دير رہي آپ کي يہ نغز بياني
اس شہر ميں جو بات ہو اڑ جاتي ہے سب ميں
ميں نے بھي سني اپنے احبا کي زباني
اک دن جو سر راہ ملے حضرت زاہد
پھر چھڑ گئي باتوں ميں وہي بات پراني
فرمايا ، شکايت وہ محبت کے سبب تھي
تھا فرض مرا راہ شريعت کي دکھاني
ميں نے يہ کہا کوئي گلہ مجھ کو نہيں ہے
يہ آپ کا حق تھا ز رہ قرب مکاني
خم ہے سر تسليم مرا آپ کے آگے
پيري ہے تواضع کے سبب ميري جواني
گر آپ کو معلوم نہيں ميري حقيقت
پيدا نہيں کچھ اس سے قصور ہمہ داني
ميں خود بھي نہيں اپني حقيقت کا شناسا
گہرا ہے مرے بحر خيالات کا پاني
مجھ کو بھي تمنا ہے کہ 'اقبال' کو ديکھوں
کي اس کي جدائي ميں بہت اشک فشاني
اقبال بھي 'اقبال' سے آگاہ نہيں ہے
کچھ اس ميں تمسخر نہيں ، واللہ نہيں ہے
📖 خلاصہ

یہ نظم مذہبی ظاہرداری اور حقیقی روحانی کیفیت کے درمیان فرق کو واضح کرتی ہے۔

← پچھلا اگلا →

✍️ محمد اقبال — مختصر تعارف

محمد اقبال
📍 سیالکوٹ (موجودہ پاکستان)

علامہ محمد اقبالؔ اردو اور فارسی ادب کے عظیم شاعر، مفکر، فلسفی اور برصغیر کے ممتاز دانشور تھے۔ آپ 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں حاصل کی، بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی جہاں آپ کو معروف مستشرق اور استاد سر تھامس آرنلڈ کی سرپرستی میسر آئی۔ مزید تعلیم کے لیے یورپ گئے، کیمبرج یونیورسٹی سے فلسفے کی تعلیم حاصل کی، میونخ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری …

مزید پڑھیں ←
نظم کیا ہے؟

نظم میں ایک مخصوص موضوع پر مسلسل خیالات بیان کیے جاتے ہیں۔ جدید اردو شاعری میں نظم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

محمد اقبال کی مزید
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا سن...
حصہ اول: ابتدائی نظمیں ہمالہ ایک آرزو پرندے کی فریاد ترانۂ ہندی نیا شوالہ تصویرِ درد نانک و...
ضربِ کلیم شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؔ کا شہرۂ آفاق شعری مجموعہ ہے جسے اقبالؔ نے "اعلانِ جنگ بر...
بالِ جبریل علامہ محمد اقبالؒ کا ایک اہم شعری مجموعہ ہے جو 1935ء میں شائع ہوا۔ یہ کتاب اقبال کے فکری ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن