نظم
محمد اقبال
پیر، 8 جون 2026
👁 12
❤️ 0
جل رہا ہوں کل نہيں پڑتي کسي پہلو مجھے
ہاں ڈبو دے اے محيط آب گنگا تو مجھے
سرزميں اپني قيامت کي نفاق انگيز ہے
وصل کيسا ، ياں تو اک قرب فراق انگيز ہے
بدلے يک رنگي کے يہ نا آشنائي ہے غضب
ايک ہي خرمن کے دانوں ميں جدائي ہے غضب
جس کے پھولوں ميں اخوت کي ہوا آئي نہيں
اس چمن ميں کوئي لطف نغمہ پيرائي نہيں
لذت قرب حقيقي پر مٹا جاتا ہوں ميں
اختلاط موجہ و ساحل سے گھبراتا ہوں ميں
دانہ خرمن نما ہے شاعر معجز بياں
ہو نہ خرمن ہي تو اس دانے کي ہستي پھر کہاں
حسن ہو کيا خود نما جب کوئي مائل ہي نہ ہو
شمع کو جلنے سے کيا مطلب جو محفل ہي نہ ہو
ذوق گويائي خموشي سے بدلتا کيوں نہيں
ميرے آئينے سے يہ جوہر نکلتا کيوں نہيں
کب زباں کھولي ہماري لذت گفتار نے!
پھونک ڈالا جب چمن کو آتش پيکار نے
📖 خلاصہ
یہ نظم انسانی دل کی گہرائیوں میں پوشیدہ درد اور اس کی آواز کو بیان کرتی ہے۔
✍️ محمد اقبال — مختصر تعارف
📍 سیالکوٹ (موجودہ پاکستان)
علامہ محمد اقبالؔ اردو اور فارسی ادب کے عظیم شاعر، مفکر، فلسفی اور برصغیر کے ممتاز دانشور تھے۔ آپ 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں حاصل کی، بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی جہاں آپ کو معروف مستشرق اور استاد سر تھامس آرنلڈ کی سرپرستی میسر آئی۔ مزید تعلیم کے لیے یورپ گئے، کیمبرج یونیورسٹی سے فلسفے کی تعلیم حاصل کی، میونخ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری …
مزید پڑھیں ←
نظم کیا ہے؟
نظم میں ایک مخصوص موضوع پر مسلسل خیالات بیان کیے جاتے ہیں۔ جدید اردو شاعری میں نظم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
محمد اقبال کی مزید
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سن...
حصہ اول: ابتدائی نظمیں
ہمالہ
ایک آرزو
پرندے کی فریاد
ترانۂ ہندی
نیا شوالہ
تصویرِ درد
نانک
و...
ضربِ کلیم شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؔ کا شہرۂ آفاق شعری مجموعہ ہے جسے اقبالؔ نے "اعلانِ جنگ بر...
بالِ جبریل علامہ محمد اقبالؒ کا ایک اہم شعری مجموعہ ہے جو 1935ء میں شائع ہوا۔ یہ کتاب اقبال کے فکری ...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!