اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
نظم
محمد اقبال پیر، 8 جون 2026
👁 18 ❤️ 0
بزم جہاں ميں ميں بھي ہوں اے شمع! دردمند
فرياد در گرہ صفت دانہ سپند
دي عشق نے حرارت سوز دروں تجھے
اور گل فروش اشک شفق گوں کيا مجھے
ہو شمع بزم عيش کہ شمع مزار تو
ہر حال اشک غم سے رہي ہمکنار تو
يک بيں تري نظر صفت عاشقان راز
ميري نگاہ مايہ آشوب امتياز
کعبے ميں ، بت کدے ميں ہے يکساں تري ضيا
ميں امتياز دير و حرم ميں پھنسا ہوا
ہے شان آہ کي ترے دود سياہ ميں
پوشيدہ کوئي دل ہے تري جلوہ گاہ ميں؟
جلتي ہے تو کہ برق تجلي سے دور ہے
بے درد تيرے سوز کو سمجھے کہ نور ہے
تو جل رہي ہے اور تجھے کچھ خبر نہيں
بينا ہے اور سوز دروں پر نظر نہيں
ميں جوش اضطراب سے سيماب وار بھي
آگاہ اضطراب دل بے قرار بھي
تھا يہ بھي کوئي ناز کسي بے نياز کا
احساس دے ديا مجھے اپنے گداز کا
يہ آگہي مري مجھے رکھتي ہے بے قرار
خوابيدہ اس شرر ميں ہيں آتش کدے ہزار
يہ امتياز رفعت و پستي اسي سے ہے
گل ميں مہک ، شراب ميں مستي اسي سے ہے
بستان و بلبل و گل و بو ہے يہ آگہي
اصل کشاکش من و تو ہے يہ آگہي
صبح ازل جو حسن ہوا دلستان عشق
آواز 'کن' ہوئي تپش آموز جان عشق
يہ حکم تھا کہ گلشن 'کن' کي بہار ديکھ
ايک آنکھ لے کے خواب پريشاں ہزار ديکھ
مجھ سے خبر نہ پوچھ حجاب وجود کي
شام فراق صبح تھي ميري نمود کي
وہ دن گئے کہ قيد سے ميں آشنا نہ تھا
زيب درخت طور مرا آشيانہ تھا
قيدي ہوں اور قفس کو چمن جانتا ہوں ميں
غربت کے غم کدے کو وطن جانتا ہوں ميں
ياد دطن فسردگي بے سبب بني
شوق نظر کبھي ، کبھي ذوق طلب بني
اے شمع! انتہائے فريب خيال ديکھ
مسجود ساکنان فلک کا مآل ديکھ
مضموں فراق کا ہوں ، ثريا نشاں ہوں ميں
آہنگ طبع ناظم کون و مکاں ہوں ميں
باندھا مجھے جو اس نے تو چاہي مري نمود
تحرير کر ديا سر ديوان ہست و بود
گوہر کو مشت خاک ميں رہنا پسند ہے
بندش اگرچہ سست ہے ، مضموں بلند ہے
چشم غلط نگر کا يہ سارا قصور ہے
عالم ظہور جلوہ ذوق شعور ہے
يہ سلسلہ زمان و مکاں کا ، کمند ہے
طوق گلوئے حسن تماشا پسند ہے
منزل کا اشتياق ہے ، گم کردہ راہ ہوں
اے شمع ! ميں اسير فريب نگاہ ہوں
صياد آپ ، حلقہ دام ستم بھي آپ
بام حرم بھي ، طائر بام حرم بھي آپ!
ميں حسن ہوں کہ عشق سراپا گداز ہوں
کھلتا نہيں کہ ناز ہوں ميں يا نياز ہوں
ہاں ، آشنائے لب ہو نہ راز کہن کہيں
پھر چھڑ نہ جائے قصہ دار و رسن کہيں
📖 خلاصہ

شمع کو علم، رہنمائی اور ایثار کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

← پچھلا اگلا →

✍️ محمد اقبال — مختصر تعارف

محمد اقبال
📍 سیالکوٹ (موجودہ پاکستان)

علامہ محمد اقبالؔ اردو اور فارسی ادب کے عظیم شاعر، مفکر، فلسفی اور برصغیر کے ممتاز دانشور تھے۔ آپ 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں حاصل کی، بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی جہاں آپ کو معروف مستشرق اور استاد سر تھامس آرنلڈ کی سرپرستی میسر آئی۔ مزید تعلیم کے لیے یورپ گئے، کیمبرج یونیورسٹی سے فلسفے کی تعلیم حاصل کی، میونخ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری …

مزید پڑھیں ←
نظم کیا ہے؟

نظم میں ایک مخصوص موضوع پر مسلسل خیالات بیان کیے جاتے ہیں۔ جدید اردو شاعری میں نظم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

محمد اقبال کی مزید
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا سن...
حصہ اول: ابتدائی نظمیں ہمالہ ایک آرزو پرندے کی فریاد ترانۂ ہندی نیا شوالہ تصویرِ درد نانک و...
ضربِ کلیم شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؔ کا شہرۂ آفاق شعری مجموعہ ہے جسے اقبالؔ نے "اعلانِ جنگ بر...
بالِ جبریل علامہ محمد اقبالؒ کا ایک اہم شعری مجموعہ ہے جو 1935ء میں شائع ہوا۔ یہ کتاب اقبال کے فکری ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن