🔤 مصرع میچر
کوئی مصرع لکھیں — ہم قافیہ اشعار تلاش کریں اور AI سے نئے اشعار بنوائیں
🤖 AI کے ہم قافیہ اشعار
آپ کا مصرع:
آگ لگا کر چلے گئے
آگ لگا کر چلے گئے
ردیف: گئے
قافیہ: اے
بحر: ہزج
شعر:
آگ لگا کر چلے گئے
دل کے شہر کو جلا کر چلے گئے
جب سے وہ یہاں سے چلے گئے
ہم بھی اپنی جاں سے چلے گئے
اشعار:
کھو کر اپنی محبت وہ چلے گئے
ہم بھی اپنی خوشیوں کو چلے گئے
دل کے درد کو چھپا کر چلے گئے
اب ہم بھی اپنی زیست کو چلے گئے
خوشیوں کے دن بھی گزر گئے
ہم بھی اپنی جوانی کو چلے گئے
آگ لگا کر دل کو جلا گئے
اب ہم بھی اپنی رہگزی کو چلے گئے
📚 ڈیٹا بیس سے ملتے اشعار (10)
تو جو ہمارے دل سے لگا ہے لگا رہے
بے چین ، مشکلات میں مجھ سا گِھرا رہے
کچھ دیر اور سَر پہ دِئیے کی ہَوا رہے
— صادق اسدؔ
گرو کے چرنَن کی ماٹی کا تِلک لگائے ہر سو
گرو گرو کی جپتے مالا پھرتا ہے بیراگی
بانسری ڈمرو سنک بجاتا ڈولتا ہے بیراگی
— منتظم عاصیؔ
مسکراتے ہوئے بچوں کو جو دیکھا تو لگا
بادشاہت بھی گدائی بھی ہے اگوائی بھی
"عاشقی باعثِ عزت بھی ہے رسوائی بھی"
— عبدالدیان اسدؔ
یاس و حسرت سے ادھر آنکھ تکی جائے گی
جس طرف جانِ غزل تیری گلی جائے گی
— عبدالدیان اسدؔ
مبارک تمھیں زندگی کے اجالے
چلے , ہم نہیں لوٹ کر آنے والے
— خضر احمد خان شررؔ


