غزل
ہاشم
منگل، 12 مئی 2026
👁 20
❤️ 3
یک و تنہا ہی چلا آندھی کو رسوا کر کے
حوصلے دیکھ زرا آج تو میرے پر کے
چند سکوں کے عوض لذتِ دنیا چر کے
کیوں چلے آئے ہو خودّاری کا سودا کر کے
بیچ چوراہے پہ لانا ہو جو جھگڑے گھر کے
"دیکھ اک روز کسی اور کا پانی بھر کے"
جب سے بڑھنے لگے زلفوں کے تمہارے خرچے
بال جھڑنے لگے محبوب ہمارے سر کے
میرِ محفل تری اوقات پتا ہے سب کو
لاکھ تعریف کریں لوگ تری ڈر ڈر کے
تو جو اک بار محبت سے اشارہ کردے
لوٹ آؤں تری چوکھٹ پہ جوانی دھر کے
لگ گئی کس کی نظر قوم کو میری ہاشمؔ
اب بنا جھگڑے کے ہوتے نہیں حصے تر کے
ہاشم انور ہاشم
ہاشم کی مزید
ذکرِ صلّیِ اعلیٰ مصطفیٰ مصطفیٰؐ
دردِ دل کی دوا مصطفیٰ مصطفیٰؐ
دھیرے دھیرے سے آنکھوں کو کھولے علی...
راہِ الفت میں یوں نکلتا ہوں
روز بنتا ہوں اور بکھرتا ہوں
حادثے مجھ سے دور رہتے ہیں
لےکے ماں کی د...
ربِ حق ہوتے ہوئے، میں نہ تَو، تُو دیکھا ہے
ہم کے احساس کو خود کرتے وضو دیکھا ہے
کہیں کٹتا ہوا ال...
گزری راتوں کے آؤ خواب لکھیں
"اک غزل ہم بھی کامیاب لکھیں"
ایسا کوئی نہیں ہے محفل میں
ج...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!