اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
نوحہ
ہاشم حسین انور حسین جمعہ، 8 مئی 2026
👁 28 ❤️ 4
اُمّتِ محمد کا صلہ سکینہ
کیسے بھول جائے کربلا سکینہ
ظلم جبر ایسا ظالموں نے ڈھایا
خوں بھرا ہوا ہے مرثیہ سکینہ
آسماں بھی تیرے ساتھ میں بلک کر
اور خود بھی زنداں رو رہا سکینہ
بھائی ساتھ تیرے ساتھ تیرے زینب
ہیں حسن علی اور فاطمہ سکینہ
جنگِ کربلا کی دین کی بقا کی
ابتدا ہیں اصغر انتہا سکینہ
بال بھی ہیں چھوٹے ہاتھ بھی بندھے ہیں
منہ چھپائے کیسے بے ردا سکینہ
خالی جھولا اصغر کا جھلا رہی ہے
روتے روتے تشنہ لب خدا سکینہ
ہو کہاں پہ عمّو ہو کہاں پہ بابا
ہر قدم لگاتی ہے صدا سکینہ
بھائی اور پھوپھی بار بار پوچھے
روتے روتے گھر کا فاصلہ سکینہ
کربلا سے کوفہ شام تک گئی ہے
خون روتے روتے غمزدہ سکینہ
نوچ لی ہے بالی کانوں سے لعیں نے
کھاتی ہے تمانچے جابجا سکینہ
اس جہاں میں دیں کی کرتا ہے حفاظت
ذکر تیرا بن کے معجزہ سکینہ
ہائے جسمِ اطہر نشتروں پہ نشتر
کس خطا کی پائے ہے سزا سکینہ
آسمان بولا قبر میں جو پہنچی
قید سے ہوئی ہے اب رہا سکینہ
کرتے کرتے ماتم موت اس کو آئے
ہاشمِ حزیں کی ہے دعا سکینہ
کربلا بلا لو اپنا در دکھا دو
ہاشمِ حزیں کی ہے دعا سکینہ
← پچھلا اگلا →
ہاشم حسین انور حسین کی مزید
کل شب جنابِ میر جو آۓ تھے خواب میں ہم نے بھی اپنے شعر سناۓ تھے خواب میں آنکھیں کھلیں نہیں کہ وہ ...
جس نے نصیب اپنا سنوارا نہیں ہے دوست دنیا میں اس کا کوئی سہارا نہیں ہے دوست شکوہ کروں تو کس سے کر...
اُمّتِ محمد کا صلہ سکینہ کیسے بھول جائے کربلا سکینہ ظلم جبر ایسا ظالموں نے ڈھایا خوں بھرا ہوا ...
حصولِ آفریں جن کے سبھی القاب ہوتے ہیں وہ راہِ عشق کے راہی بڑے کم یاب ہوتے ہیں انہیں ہی ہر مسافر ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن