اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
عبدالدیان اسدؔ جمعہ، 15 مئی 2026
👁 13 ❤️ 3
بادشاہت بھی گدائی بھی ہے اگوائی بھی
"عاشقی باعثِ عزت بھی ہے رسوائی بھی"
رشتے داروں سے نہ شکوہ نہ شکایت کوئی
اب کہاں ہوتا ہے بھائی کا یہاں بھائی بھی
لوگ کہتے ہیں کہ معذور ہے بیٹی میری
کیا خبر ان کو کہ قوت بھی ہے بینائی بھی
مسکراتے ہوئے بچوں کو جو دیکھا تو لگا
خود ہی جوکر ہوں میں سرکس کا تماشائی بھی
بیٹی بیٹے کا ہوا دیکھ کے چہرہِ محسوس
میری میت میں عزاداری بھی شہنائی بھی
دو ہی بچوں کو تو تعلیم دلانی ہے مگر
توڑ دیتی ہے کمر آج کی سستائی بھی
اب کہ انصاف کی مسند بھی نہیں لگتی اسد
اب کہاں ہوتی ہے مظلوم کی سنوائی بھی
📖 خلاصہ

یہ سماجی حقیقت نگاری، درد اور مشاہدے سے بھرپور غزل عبدالدیان اسد کی فکری پختگی اور معاشرتی شعور کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعر نے یہاں موجودہ سماج کے تضادات، مہنگائی، رشتوں کی کمزوری، اور انصاف کے نظام کی کمز…

← پچھلا اگلا →
عبدالدیان اسدؔ کی مزید
اس جگہ پر جنوں مہمان ہوا کرتے ہیں جس جگہ شاہ بھی دربان ہوا کرتے ہیں زخم کو نوچ کے خوں اپنا بہات...
کہیں پہ صدیوں پرانی آتش غضب سے اپنے بجھا رہا ہے چراغ ٹوٹا ہوا کہیں پر ہوا کی زد میں جلا رہا ہے ...
”معراج بی“ کی یاد سے کتنی نمی ہے آج بیٹوں کی آنکھ نم ہے تو بیٹی دکھی ہے آج احباب رشتے دار ہیں ہ...
یاس و حسرت سے ادھر آنکھ تکی جائے گی جس طرف جانِ غزل تیری گلی جائے گی دے کے آواز زمانے کو جو خام...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن