اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
عبدالدیان اسدؔ جمعہ، 15 مئی 2026
👁 18 ❤️ 2
یاس و حسرت سے ادھر آنکھ تکی جائے گی
جس طرف جانِ غزل تیری گلی جائے گی
دے کے آواز زمانے کو جو خاموش ہوا
"مدتوںاس کی ہی آواز سنی جائے گی"
ہے جو آفاقِ محبت کی فصیلوں پہ سجی
دل کے ہجرے میں وہ تصویر رکھی جائے گی
حاکمِ وقت کو معلوم نہیں ہے شاید
دار پر چڑھ کے بھی حق بات کہی جائے گی
اس میں کردارِ جنوں خون سے لکھاّ ہوگا
خشک اشکوں سے وہ تاریخ لکھی جائے گی
وصل کے تم کو مبارک ہو یہ لمحات حسیں
لذتِ ہجر کہاں تم سے سہی جائے گی
توڑ کر جام چلے آؤ یہ اعلان ہوا
آج میخانے میں بس آنکھوں سے پی جائے گی
نیند سے اس کا اسد ترکِ تعلق ہوگا
جب بھی چادر اسے احساس کی دی جائے گی
📖 خلاصہ

یہ فکری، علامتی اور احساسِ ہجر و حق گوئی سے بھرپور غزل عبدالدیان اسد کی فنی پختگی اور داخلی شدت کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعر نے یہاں محبت، جدائی، حق گوئی اور زمانے کے جبر کو نہایت گہرے استعاروں کے ساتھ بیان…

← پچھلا اگلا →
عبدالدیان اسدؔ کی مزید
اس جگہ پر جنوں مہمان ہوا کرتے ہیں جس جگہ شاہ بھی دربان ہوا کرتے ہیں زخم کو نوچ کے خوں اپنا بہات...
کہیں پہ صدیوں پرانی آتش غضب سے اپنے بجھا رہا ہے چراغ ٹوٹا ہوا کہیں پر ہوا کی زد میں جلا رہا ہے ...
”معراج بی“ کی یاد سے کتنی نمی ہے آج بیٹوں کی آنکھ نم ہے تو بیٹی دکھی ہے آج احباب رشتے دار ہیں ہ...
یاس و حسرت سے ادھر آنکھ تکی جائے گی جس طرف جانِ غزل تیری گلی جائے گی دے کے آواز زمانے کو جو خام...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن