🔍 اعلی تلاش
32 نتائج ملے "ذوق"
شاعری
نظم
بزم جہاں ميں ميں بھي ہوں اے شمع! دردمند
فرياد در گرہ صفت دانہ سپند
... فسردگي بے سبب بني
شوق نظر کبھي ، کبھي ذوق طلب بني
اے شمع! انتہائے فريب خيال ديکھ
مسجود ساکنان فلک کا مآل ديکھ
مضموں...
شاعری
نظم
شورش ميخانہ انساں سے بالاتر ہے تو
زينت بزم فلک ہو جس سے وہ ساغر ہے تو
...آرزو نور حقيقت کي ہمارے دل ميں ہے
ليلي ذوق طلب کا گھر اسي محمل ميں ہے
کس قدر لذت کشود عقدہ مشکل ميں ہے
لطف صد حاصل ہم...
شاعری
غزل
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے
...ں
یاں سے جب ہم روش تیر نظر جائیں گے
ذوقؔ جو مدرسے کے بگڑے ہوئے ہیں ملا
ان کو مے خانے میں لے آؤ سنور جائیں گے...
شاعری
نظم
ميرے ويرانے سے کوسوں دور ہے تيرا وطن
ہے مگر دريائے دل تيري کشش سے موجزن
...راپا ہوں، سراپا نور تو
سينکڑوں منزل ہے ذوق آگہي سے دور تو
جو مري ہستي کا مقصد ہے ، مجھے معلوم ہے
يہ چمک وہ ہے، جبيں ج...
شاعری
نظم
سنے کوئي مري غربت کي داستاں مجھ سے
بھلايا قصہ پيمان اوليں ميں نے
...بتوں کو بنايا حرم نشيں ميں نے
کبھي ميں ذوق تکلم ميں طور پر پہنچا
چھپايا نور ازل زير آستيں ميں نے
کبھي صليب پہ اپنوں ن...
نثر
نثری نظم
میں مسافر، ہوں محبت، کے خیاباں،
کا مجھے حرفِ ندا ذوق و شناسائی سے حاصل،
...ہوں محبت، کے خیاباں،
کا مجھے حرفِ ندا ذوق و شناسائی سے حاصل،
ہوئی معراجِ عُلٰی بختِ تمنا،
ہے کہاں اب، میں ستارے،
...
نثر
انتخاب
رنگ اور رنگولی کی جمالیات۔ کتاب: ہندوستانی جمالیات جلد نمبر:1، مصنف: شکیل الرحمٰن
...یں طومار SCROLLکو منقش کرنے کا جمالیاتی ذوق رہا ہے سولہویں صدی کی دیواری تصویریں کے پیچھے ان روایات کو محسوس کیا جاسکتا ...
شاعری
غزل
گلزار ہست و بود نہ بيگانہ وار ديکھ
ہے ديکھنے کي چيز اسے بار بار ديکھ
... شوق ديکھ، مرا انتظار ديکھ
کھولي ہيں ذوق ديد نے آنکھيں تري اگر
ہر رہ گزر ميں نقش کف پائے يار ديکھ...
شاعری
غزل
کہوں کيا آرزوئے بے دلي مجھ کو کہاں تک ہے
مرے بازار کي رونق ہي سودائے زياں تک ہے
...گي پابندي رسم فغاں تک ہے
جواني ہے تو ذوق ديد بھي ، لطف تمنا بھي
ہمارے گھر کي آبادي قيام ميہماں تک ہے
زمانے بھر مي...
شاعری
نظم
عشق نے کر دیا تجھے ذوقِ تپش سے آشنا
بزم کو مثلِ شمعِ بزم حاصلِ سوز و ساز دے
...عشق نے کر دیا تجھے ذوقِ تپش سے آشنا
بزم کو مثلِ شمعِ بزم حاصلِ سوز و ساز دے
شانِ کرم پہ ہے مدار عشقِ گرہ کشاے کا
دَیر...
شاعری
نظم
اوروں کا ہے پيام اور ، ميرا پيام اور ہے
عشق کے درد مند کا طرز کلام اور ہے
... اس کا نظام اور ہے
موت ہے عيش جاوداں ، ذوق طلب اگر نہ ہو
گردش آدمي ہے اور ، گردش جام اور ہے
شمع سحر يہ کہہ گئي سوز ہے...
شاعری
نظم
قدرت کا عجيب يہ ستم ہے!
انسان کو راز جو بنايا
...يا
راز اس کي نگاہ سے چھپايا
بے تاب ہے ذوق آگہي کا
کھلتا نہيں بھيد زندگي کا
حيرت آغاز و انتہا ہے
آئينے کے گھر ميں او...
شاعری
غزل
چمک تيري عياں بجلي ميں ، آتش ميں ، شرارے ميں
جھلک تيري ہويدا چاند ميں ،سورج ميں ، تارے ميں
...ي کنارے ميں
شريعت کيوں گريباں گير ہو ذوق تکلم کي
چھپا جاتا ہوں اپنے دل کا مطلب استعارے ميں
جو ہے بيدار انساں ميں ...
نثر
خود نوشت
انسان کی زندگی ایک ایسی داستان ہے جس کے ہر ورق پر وقت اپنے نقوش ثبت کرتا رہتا ہے۔ بعض زندگیاں خاموش جھیل کی مانند سکون سے گزرتی ہیں اور بعض طوفانی دریا کی طرح نشیب و فراز سے عبارت ہوتی ہیں۔ میری زندگی بھی انہی متنوع کیفیات کا مجموعہ ہے، جس میں خواب بھی ہیں، جدوجہد بھی، محرومیاں بھی اور امید کی روشن کرنیں بھی۔
میری پیدائش ایک متوسط مگر باوقار گھرانے میں ہوئی جہاں سادگی، محبت اور اخلاقی قدروں کو بڑی اہمیت حاصل تھی۔ بچپن ہی سے گھر کا ماحول دینی اور ادبی ذوق سے آراستہ تھا۔ والدین نے ہمیشہ اچھی تعلیم اور عمدہ اخلاق کی تلقین کی۔ بچپن کی معصوم ساعتیں کھیل کود، دوستوں کی محفلوں اور اسکول کی رنگین یادوں میں بسر ہوئیں۔ اُس زمانے کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں آج بھی ذہن کے دریچوں میں جگمگاتی محسوس ہوتی ہیں۔
...۔ بچپن ہی سے گھر کا ماحول دینی اور ادبی ذوق سے آراستہ تھا۔ والدین نے ہمیشہ اچھی تعلیم اور عمدہ اخلاق کی تلقین کی۔ بچپن ک...
نثر
تنقید
ادب کسی بھی معاشرے کا آئینہ ہوتا ہے۔ قوموں کے افکار، احساسات، تہذیب، اخلاق اور اجتماعی شعور کا عکس ادب ہی میں نمایاں ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دور کا ادب اپنے زمانے کی فکری اور سماجی کیفیت کو اپنے اندر سمیٹے ہوتا ہے۔ موجودہ دور کا ادبی ماحول بھی اپنے اندر بے شمار رنگ، تضادات، امکانات اور مسائل رکھتا ہے۔ اگر ایک طرف تخلیقی آزادی، جدید ذرائع ابلاغ اور نئے رجحانات نے ادب کو وسعت بخشی ہے تو دوسری طرف سطحیت، شہرت پسندی اور ادبی تجارت نے اس کی روح کو متاثر بھی کیا ہے۔
آج کا ادبی منظرنامہ ماضی کے مقابلے میں بہت مختلف ہے۔ پہلے ادب ریاضت، مطالعہ اور فکری پختگی کا تقاضا کرتا تھا۔ ایک شاعر یا ادیب برسوں کی محنت، مشاہدے اور علمی تربیت کے بعد ادبی دنیا میں جگہ بناتا تھا۔ مگر اب سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم نے ادب کو فوری اظہار کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ اب ہر شخص چند اشعار یا چند جذباتی جملے لکھ کر خود کو شاعر اور ادیب سمجھنے لگا ہے۔ اس صورتِ حال نے اگرچہ اظہار کے مواقع بڑھائے ہیں، لیکن معیاری ادب کے لیے کئی سوالات بھی پیدا کیے ہیں۔
...تخلیق کر رہے ہیں۔ نئی نسل میں مطالعے کا ذوق مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ کئی نوجوان زبان، تہذیب اور سنجیدہ فکر سے جڑنے کی ک...


