میری خود نوشت
انسان کی زندگی ایک ایسی داستان ہے جس کے ہر ورق پر وقت اپنے نقوش ثبت کرتا رہتا ہے۔ بعض زندگیاں خاموش جھیل کی مانند سکون سے گزرتی ہیں اور بعض طوفانی دریا کی طرح نشیب و فراز سے عبارت ہوتی ہیں۔ میری زندگی بھی انہی متنوع کیفیات کا مجموعہ ہے، جس میں خواب بھی ہیں، جدوجہد بھی، محرومیاں بھی اور امید کی روشن کرنیں بھی۔
میری پیدائش ایک متوسط مگر باوقار گھرانے میں ہوئی جہاں سادگی، محبت اور اخلاقی قدروں کو بڑی اہمیت حاصل تھی۔ بچپن ہی سے گھر کا ماحول دینی اور ادبی ذوق سے آراستہ تھا۔ والدین نے ہمیشہ اچھی تعلیم اور عمدہ اخلاق کی تلقین کی۔ بچپن کی معصوم ساعتیں کھیل کود، دوستوں کی محفلوں اور اسکول کی رنگین یادوں میں بسر ہوئیں۔ اُس زمانے کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں آج بھی ذہن کے دریچوں میں جگمگاتی محسوس ہوتی ہیں۔
تعلیم کے ابتدائی مراحل میں مجھے کئی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا، مگر شوقِ علم نے کبھی ہمت نہ ہارنے دی۔ میں ہمیشہ کتابوں سے خاص اُنس رکھتا تھا۔ اردو ادب، شاعری اور مطالعے کا ذوق رفتہ رفتہ میری شخصیت کا حصہ بنتا گیا۔ شعر و ادب کی محفلیں مجھے اپنی جانب کھینچتی رہیں۔ غالب، اقبال، فیض اور دیگر اکابرینِ ادب کے کلام نے میرے فکر و شعور کو جِلا بخشی۔
زندگی کا سفر آگے بڑھا تو ذمہ داریوں نے بھی اپنے رنگ دکھانے شروع کیے۔ انسان جب عملی دنیا میں قدم رکھتا ہے تو اُسے معلوم ہوتا ہے کہ محض خواب کافی نہیں بلکہ خوابوں کی تعبیر کے لیے مسلسل جدوجہد بھی ضروری ہے۔ میں نے بھی مختلف حالات کا سامنا کیا، کبھی کامیابیاں ملیں اور کبھی ناکامیوں نے راستہ روکا، مگر ہر تجربے نے مجھے ایک نیا سبق دیا۔ وقت نے سکھایا کہ صبر، محنت اور استقامت ہی انسان کے حقیقی ساتھی ہیں۔
مجھے ادب اور تخلیق سے ہمیشہ غیر معمولی دلچسپی رہی۔ تحریر میرے لیے صرف الفاظ کا کھیل نہیں بلکہ جذبات و احساسات کے اظہار کا ذریعہ ہے۔ جب قلم ہاتھ میں آتا ہے تو دل کے پوشیدہ جذبات صفحۂ قرطاس پر بکھرنے لگتے ہیں۔ شاعری اور نثر نگاری نے میری زندگی کو ایک نئی معنویت عطا کی۔ میں سمجھتا ہوں کہ ادب انسان کے باطن کو روشن کرتا ہے اور معاشرے میں شعور و آگہی پیدا کرتا ہے۔
میری زندگی میں بعض لمحات ایسے بھی آئے جب مایوسی نے دل پر دستک دی، مگر امید کا چراغ کبھی مکمل طور پر بجھ نہ سکا۔ میں نے یہ حقیقت جان لی کہ زندگی کا حسن اسی جدوجہد میں پوشیدہ ہے۔ اگر مشکلات نہ ہوں تو انسان اپنی صلاحیتوں سے واقف ہی نہ ہو سکے۔ ہر اندھیری رات کے بعد صبح کی روشنی ضرور طلوع ہوتی ہے۔
آج جب میں ماضی کے اوراق پلٹتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ زندگی ایک مسلسل سفر کا نام ہے۔ انسان سیکھتے سیکھتے آگے بڑھتا ہے اور ہر تجربہ اس کی شخصیت میں نکھار پیدا کرتا ہے۔ میری خواہش ہے کہ میں اپنی صلاحیتوں کو علم، ادب اور انسانیت کی بھلائی کے لیے استعمال کروں اور ایسا کام انجام دوں جو میرے بعد بھی لوگوں کے لیے مفید ثابت ہو۔
مختصر یہ کہ میری خود نوشت ایک عام انسان کی جدوجہد، خوابوں، امیدوں اور مسلسل کوششوں کی کہانی ہے۔ میں نے زندگی سے یہی سیکھا ہے کہ انسان اگر اپنے مقصد پر یقین رکھے اور محنت کو اپنا شعار بنا لے تو مشکلات کے باوجود کامیابی کی منزل تک پہنچ سکتا ہے
✍️ منتظم عاصیؔ — مختصر تعارف
اپنی بات
محترم قارئین السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّـٰهِ وَ بَرْکَاتَہٗ
الحمداللہ.................... بفضلِ خدا وند کریم بفیض محسنِ انسانیت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور جملہ اہلِ بیت اطہار کے توسل اولیائے کاملین کے احسان سے مرشدِ پاک کی نظرِ کمال سے والدین کی دعاؤں شفقت تربیت کا اثر ہے کہ آج میں اپنی تیسری شعری ادبی کتاب طشت ازبام آپ لوگوں تک پہنچانے میں کامیاب رہا
شعر و …



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!