اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
نظم
محمد اقبال پیر، 8 جون 2026
👁 7 ❤️ 0
سنے کوئي مري غربت کي داستاں مجھ سے
بھلايا قصہ پيمان اوليں ميں نے
لگي نہ ميري طبيعت رياض جنت ميں
پيا شعور کا جب جام آتشيں ميں نے
رہي حقيقت عالم کي جستجو مجھ کو
دکھايا اوج خيال فلک نشيں ميں نے
ملا مزاج تغير پسند کچھ ايسا
کيا قرار نہ زير فلک کہيں ميں نے
نکالا کعبے سے پتھر کي مورتوں کو کبھي
کبھي بتوں کو بنايا حرم نشيں ميں نے
کبھي ميں ذوق تکلم ميں طور پر پہنچا
چھپايا نور ازل زير آستيں ميں نے
کبھي صليب پہ اپنوں نے مجھ کو لٹکايا
کيا فلک کو سفر، چھوڑ کر زميں ميں نے
کبھي ميں غار حرا ميں چھپا رہا برسوں
ديا جہاں کو کبھي جام آخريں ميں نے
سنايا ہند ميں آ کر سرود رباني
پسند کي کبھي يوناں کي سر زميں ميں نے
ديار ہند نے جس دم مري صدا نہ سني
بسايا خطہء جاپان و ملک چيں ميں نے
بنايا ذروں کي ترکيب سے کبھي عالم
خلاف معني تعليم اہل ديں ميں نے
لہو سے لال کيا سينکڑوں زمينوں کو
جہاں ميں چھيڑ کے پيکار عقل و ديں ميں نے
سمجھ ميں آئي حقيقت نہ جب ستاروں کي
اسي خيال ميں راتيں گزار ديں ميں نے
ڈرا سکيں نہ کليسا کي مجھ کو تلواريں
سکھايا مسئلہ گردش زميں ميں نے
کشش کا راز ہويدا کيا زمانے پر
لگا کے آئنہ عقل دور بيں ميں نے
کيا اسير شعاعوں کو ، برق مضطر کو
بنادي غيرت جنت يہ سر زميں ميں نے
مگر خبر نہ ملي آہ! راز ہستي کي
کيا خرد سے جہاں کو تہ نگيں ميں نے
ہوئي جو چشم مظاہر پرست وا آخر
تو پايا خانہء دل ميں اسے مکيں ميں نے
📖 خلاصہ

یہ نظم انسان کی تخلیق، جدوجہد اور کائنات میں اس کے مقام کو موضوع بناتی ہے۔

← پچھلا اگلا →

✍️ محمد اقبال — مختصر تعارف

محمد اقبال
📍 سیالکوٹ (موجودہ پاکستان)

علامہ محمد اقبالؔ اردو اور فارسی ادب کے عظیم شاعر، مفکر، فلسفی اور برصغیر کے ممتاز دانشور تھے۔ آپ 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں حاصل کی، بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی جہاں آپ کو معروف مستشرق اور استاد سر تھامس آرنلڈ کی سرپرستی میسر آئی۔ مزید تعلیم کے لیے یورپ گئے، کیمبرج یونیورسٹی سے فلسفے کی تعلیم حاصل کی، میونخ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری …

مزید پڑھیں ←
نظم کیا ہے؟

نظم میں ایک مخصوص موضوع پر مسلسل خیالات بیان کیے جاتے ہیں۔ جدید اردو شاعری میں نظم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

محمد اقبال کی مزید
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا سن...
حصہ اول: ابتدائی نظمیں ہمالہ ایک آرزو پرندے کی فریاد ترانۂ ہندی نیا شوالہ تصویرِ درد نانک و...
ضربِ کلیم شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؔ کا شہرۂ آفاق شعری مجموعہ ہے جسے اقبالؔ نے "اعلانِ جنگ بر...
بالِ جبریل علامہ محمد اقبالؒ کا ایک اہم شعری مجموعہ ہے جو 1935ء میں شائع ہوا۔ یہ کتاب اقبال کے فکری ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن