اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
محمد اقبال پیر، 8 جون 2026
👁 8 ❤️ 0
گلزار ہست و بود نہ بيگانہ وار ديکھ
ہے ديکھنے کي چيز اسے بار بار ديکھ
آيا ہے تو جہاں ميں مثال شرار ديکھ
دم دے نہ جائے ہستي ناپائدار ديکھ
مانا کہ تيري ديد کے قابل نہيں ہوں ميں
تو ميرا شوق ديکھ، مرا انتظار ديکھ
کھولي ہيں ذوق ديد نے آنکھيں تري اگر
ہر رہ گزر ميں نقش کف پائے يار ديکھ
📖 خلاصہ

غزل انسان کو کائنات سے وابستگی اور خود شناسی کی دعوت دیتی ہے۔

← پچھلا اگلا →

✍️ محمد اقبال — مختصر تعارف

محمد اقبال
📍 سیالکوٹ (موجودہ پاکستان)

علامہ محمد اقبالؔ اردو اور فارسی ادب کے عظیم شاعر، مفکر، فلسفی اور برصغیر کے ممتاز دانشور تھے۔ آپ 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں حاصل کی، بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی جہاں آپ کو معروف مستشرق اور استاد سر تھامس آرنلڈ کی سرپرستی میسر آئی۔ مزید تعلیم کے لیے یورپ گئے، کیمبرج یونیورسٹی سے فلسفے کی تعلیم حاصل کی، میونخ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری …

مزید پڑھیں ←
غزل کیا ہے؟

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

محمد اقبال کی مزید
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا سن...
حصہ اول: ابتدائی نظمیں ہمالہ ایک آرزو پرندے کی فریاد ترانۂ ہندی نیا شوالہ تصویرِ درد نانک و...
ضربِ کلیم شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؔ کا شہرۂ آفاق شعری مجموعہ ہے جسے اقبالؔ نے "اعلانِ جنگ بر...
بالِ جبریل علامہ محمد اقبالؒ کا ایک اہم شعری مجموعہ ہے جو 1935ء میں شائع ہوا۔ یہ کتاب اقبال کے فکری ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن