اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
نثری نظم

میں مسافر ہوں محبت کے خیاباں کا

میں مسافر ہوں محبت کے خیاباں کا
منتظم عاصیؔ
منتظم عاصیؔ بدھ، 22 اپریل 2026
👁 15 ❤️ 0

میں مسافر، ہوں محبت، کے خیاباں،
کا مجھے حرفِ ندا ذوق و شناسائی سے حاصل،
ہوئی معراجِ عُلٰی بختِ تمنا،
ہے کہاں اب، میں ستارے،
کی طرح اپنی چمک اوڑھ کے آزاد شعاعوں،
سے مخاطب، ہوا کرتا،
ہوں مجھے فکرِ فنا اور بقا اور شفا اور دواؤں سے مسیحا کے مطب کی کوئی زینت نہیں بننا
میں مسافر ہوں محبت کے خیاباں کا
میں مسافر ہوں محبت کے خیاباں کا
میں مسافر ہوں محبت کے خیاباں کا

✍️ منتظم عاصیؔ — مختصر تعارف

منتظم عاصیؔ
📍 مالیگاؤں، مہاراشٹر، ہندوستان

اپنی بات

محترم قارئین السَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّـٰهِ وَ بَرْکَاتَہٗ
الحمداللہ.................... بفضلِ خدا وند کریم بفیض محسنِ انسانیت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور جملہ اہلِ بیت اطہار کے توسل اولیائے کاملین کے احسان سے مرشدِ پاک کی نظرِ کمال سے والدین کی دعاؤں شفقت تربیت کا اثر ہے کہ آج میں اپنی تیسری شعری ادبی کتاب طشت ازبام آپ لوگوں تک پہنچانے میں کامیاب رہا
شعر و …

مزید پڑھیں ←
منتظم عاصیؔ کی مزید تحریریں
غالب کے ہاں تصورِ عورت | عشق، شخصیت، تہذیب اور انسانی وقار کا تحقیقی مطالعہ
غالب کے ہاں تصورِ عورت عشق، شخصیت، تہذیب اور انسانی وقار کا تحقیقی مطالعہ تعارف ...
غالب کی سیاسی فکر: زوالِ سلطنت، استعمار اور ہندوستانی تہذیب | جامع تحقیقی مقالہ
غالب کی سیاسی فکر زوالِ سلطنت، استعمار اور ہندوستانی تہذیب کا تحقیقی مطالعہ تعار...
غالب کا تصوف: روایت، فکر اور جدید شعور | مرزا غالب پر جامع تحقیقی مقالہ
غالب کا تصوف روایت، فکر اور جدید شعور کا تحقیقی مطالعہ تعارف اردو ادب کی تاریخ م...
مرزا غالب: شخصیت، فن، فکر اور جدید شعری شعور | ایک جامع تحقیقی و تنقیدی مقالہ
مرزا غالب: شخصیت، فن، فکر اور جدید شعری شعور ایک تحقیقی و تنقیدی مطالعہ تعارف ار...
مزید متعلقہ نثر
ریل گاڑی
جا وہ رہا تھا مگر محسوس ہوا کہ میں سفر میں تھی جدا وہ ہورہا تھا مجھ سے یا میں ہج...
میں خود کشی نہیں کروں گی
میری آنکھیں نوحہ لکھیں گی میرے آنسوؤں کے قلم سے میری روح سنگ مرمر کی مانند سرد ا...
جنون
جنون دار پر چڑھ کر رقص کرتا ہے، جنون قتل کر کے افسوس کرتا، جنون ہی رموزِ قلب سے ...
رسیا
دو بین کرتی آنکھیں دو بے چین ہوتی آنکھیں اپنی غربت کا تماشہ بننے ہر ہوس زدہ لوگو...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن