غزل
شیخ محمد ابراہیم ذوق
منگل، 21 اپریل 2026
👁 10
❤️ 0
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے
تم نے ٹھہرائی اگر غیر کے گھر جانے کی
تو ارادے یہاں کچھ اور ٹھہر جائیں گے
خالی اے چارہ گرو ہوں گے بہت مرہم داں
پر مرے زخم نہیں ایسے کہ بھر جائیں گے
پہنچیں گے رہ گزر یار تلک کیوں کر ہم
پہلے جب تک نہ دو عالم سے گزر جائیں گے
شعلۂ آہ کو بجلی کی طرح چمکاؤں
پر مجھے ڈر ہے کہ وہ دیکھ کے ڈر جائیں گے
ہم نہیں وہ جو کریں خون کا دعویٰ تجھ پر
بلکہ پوچھے گا خدا بھی تو مکر جائیں گے
آگ دوزخ کی بھی ہو جائے گی پانی پانی
جب یہ عاصی عرق شرم سے تر جائیں گے
نہیں پائے گا نشاں کوئی ہمارا ہرگز
ہم جہاں سے روش تیر نظر جائیں گے
سامنے چشم گہر بار کے کہہ دو دریا
چڑھ کے گر آئے تو نظروں سے اتر جائیں گے
لائے جو مست ہیں تربت پہ گلابی آنکھیں
اور اگر کچھ نہیں دو پھول تو دھر جائیں گے
رخ روشن سے نقاب اپنے الٹ دیکھو تم
مہر و مہ نظروں سے یاروں کی اتر جائیں گے
ہم بھی دیکھیں گے کوئی اہل نظر ہے کہ نہیں
یاں سے جب ہم روش تیر نظر جائیں گے
ذوقؔ جو مدرسے کے بگڑے ہوئے ہیں ملا
ان کو مے خانے میں لے آؤ سنور جائیں گے
✍️ شیخ محمد ابراہیم ذوق — مختصر تعارف
📍 دہلی، ہندوستان
ابراہیم ذوق کی سوانح حیات (مکمل اور جامع)
🟢 ذوق کی سوانح حیات
🟢 تعارف
ابراہیم ذوق اردو کے مشہور شاعر تھے۔
ان کا پورا نام: شیخ محمد ابراہیم ذوق تھا۔
وہ سادہ، شستہ اور کلاسیکی شاعری کے لیے جانے جاتے ہیں۔
📍 پیدائش اور خاندانی پس منظر
📅 پیدائش: 1789ء
📍 مقام: دہلی، ہندوستان
والد: محمد رمضان (سپاہی)
ان کا تعلق ایک سادہ گھرانے سے تھا۔
📚 تعلیم و تربیت
ابتدائی تعلیم دہلی میں حاصل کی
شا …
غزل کیا ہے؟
غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔
شیخ محمد ابراہیم ذوق کی مزید
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے
تم نے ٹھہرائی ا...



ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!