اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
نظم
محمد اقبال پیر، 8 جون 2026
👁 11 ❤️ 0
قدرت کا عجيب يہ ستم ہے!
انسان کو راز جو بنايا
راز اس کي نگاہ سے چھپايا
بے تاب ہے ذوق آگہي کا
کھلتا نہيں بھيد زندگي کا
حيرت آغاز و انتہا ہے
آئينے کے گھر ميں اور کيا ہے
ہے گرم خرام موج دريا
دريا سوئے سجر جادہ پيما
بادل کو ہوا اڑا رہي ہے
شانوں پہ اٹھائے لا رہي ہے
تارے مست شراب تقدير
زندان فلک ميں پا بہ زنجير
خورشيد ، وہ عابد سحر خيز
لانے والا پيام بر خيز
مغرب کي پہاڑيوں ميں چھپ کر
پيتا ہے مے شفق کا ساغر
لذت گير وجود ہر شے
سر مست مے نمود ہر شے
کوئي نہيں غم گسار انساں
کيا تلخ ہے روزگار انساں!
📖 خلاصہ

اقبال انسان کو کائنات کی عظیم ترین تخلیق اور امکانات کا مرکز قرار دیتے ہیں۔

← پچھلا اگلا →

✍️ محمد اقبال — مختصر تعارف

محمد اقبال
📍 سیالکوٹ (موجودہ پاکستان)

علامہ محمد اقبالؔ اردو اور فارسی ادب کے عظیم شاعر، مفکر، فلسفی اور برصغیر کے ممتاز دانشور تھے۔ آپ 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں حاصل کی، بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی جہاں آپ کو معروف مستشرق اور استاد سر تھامس آرنلڈ کی سرپرستی میسر آئی۔ مزید تعلیم کے لیے یورپ گئے، کیمبرج یونیورسٹی سے فلسفے کی تعلیم حاصل کی، میونخ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری …

مزید پڑھیں ←
نظم کیا ہے؟

نظم میں ایک مخصوص موضوع پر مسلسل خیالات بیان کیے جاتے ہیں۔ جدید اردو شاعری میں نظم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

محمد اقبال کی مزید
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا سن...
حصہ اول: ابتدائی نظمیں ہمالہ ایک آرزو پرندے کی فریاد ترانۂ ہندی نیا شوالہ تصویرِ درد نانک و...
ضربِ کلیم شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؔ کا شہرۂ آفاق شعری مجموعہ ہے جسے اقبالؔ نے "اعلانِ جنگ بر...
بالِ جبریل علامہ محمد اقبالؒ کا ایک اہم شعری مجموعہ ہے جو 1935ء میں شائع ہوا۔ یہ کتاب اقبال کے فکری ...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن