💡 تشریح
غالب کہتے ہیں کہ میرے اندر ہزاروں خواہشیں ہیں، ہر خواہش اتنی شدید ہے کہ اس کے پورا نہ ہونے پر جان نکل جائے۔ بہت سی خواہشیں اور آرزوئیں پوری ہوئیں لیکن پھر بھی لگتا ہے کم ہیں — انسان کی خواہشیں کبھی ختم نہیں ہوتیں۔
📝 الفاظ کے معنی
دم نکلے = جان نکلے
ارمان = خواہش، آرزو
ارمان = خواہش، آرزو
🏛️ پس منظر
یہ شعر غالب کی وہ غزل سے ہے جو ان کی سب سے مشہور غزلوں میں شمار ہوتی ہے۔
💡 مرکزی خیال
انسانی خواہشات لامحدود ہیں اور کبھی ختم نہیں ہوتیں — یہی انسانی فطرت کی المناکی ہے۔
✨ ادبی خصوصیات
تضاد: بہت نکلے اور کم نکلے میں تضاد ہے۔ تکرار: نکلے کا تکرار موسیقیت پیدا کرتا ہے۔ مبالغہ: ہزاروں خواہشیں میں مبالغہ ہے۔
📚 مزید تشریحیں
چھاپ تلک سب چھینی رے موسے نینا ملائیکے
پریم بھٹی کا مدوا پلائیکے…
— ابوالحسن یمین الدین خسروؔ
نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر
تُو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں ک…
— محمد اقبال
اُس کی ہر حال میں ہم سب پہ عطا آتی ہے
فعل اچھا ہو تو پھر اُس کی رضا…
— ہاشم اسدؔ
چھٹکی ہوئی ہے گورِ غریباں پہ چاندنی
ہے بیکسوں کو فکر چراغِ مزار کیا…
— برج نرائن چکبست
🔗 یہ بھی دیکھیں


