اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
❤️ 1 پسند ← واپس
👁 28 بار پڑھی 📅 13 Apr 2026 💬 0 تبصرے
💡 تشریح
غالب کہتے ہیں کہ میرے اندر ہزاروں خواہشیں ہیں، ہر خواہش اتنی شدید ہے کہ اس کے پورا نہ ہونے پر جان نکل جائے۔ بہت سی خواہشیں اور آرزوئیں پوری ہوئیں لیکن پھر بھی لگتا ہے کم ہیں — انسان کی خواہشیں کبھی ختم نہیں ہوتیں۔
📝 الفاظ کے معنی
دم نکلے = جان نکلے
ارمان = خواہش، آرزو
🏛️ پس منظر
یہ شعر غالب کی وہ غزل سے ہے جو ان کی سب سے مشہور غزلوں میں شمار ہوتی ہے۔
💡 مرکزی خیال
انسانی خواہشات لامحدود ہیں اور کبھی ختم نہیں ہوتیں — یہی انسانی فطرت کی المناکی ہے۔
✨ ادبی خصوصیات
تضاد: بہت نکلے اور کم نکلے میں تضاد ہے۔ تکرار: نکلے کا تکرار موسیقیت پیدا کرتا ہے۔ مبالغہ: ہزاروں خواہشیں میں مبالغہ ہے۔
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کے لیے لاگ ان کریں

پہلے تبصرہ کریں!

نقل ہو گیا ✓
ادبی AI معاون
● آن لائن