اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
ڈور تک ثابت نہیں اعصاب کی
کر رہے ہیں بات آب و تاب کی
❤️ 0 پسند ← واپس
👁 24 بار پڑھی 📅 24 May 2026 💬 0 تبصرے
💡 تشریح
اس شعر میں شاعر انسان کی کمزوری، بے ثباتی اور کھوکھلے دعووں پر طنز کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جن لوگوں کے اعصاب اور حوصلے ذرا سی دیر تک بھی مضبوط اور ثابت قدم نہیں رہتے، وہی لوگ بڑی شان و شوکت، طاقت اور آب و تاب کی باتیں کرتے ہیں۔
پہلے مصرعے میں “ڈور تک ثابت نہیں اعصاب کی” کے ذریعے اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ کچھ لوگ معمولی آزمائش یا مشکل کے وقت گھبرا جاتے ہیں اور ان کے حوصلے ٹوٹ جاتے ہیں۔ دوسرے مصرعے میں شاعر نے ایسے لوگوں کے دعووں کو بے معنی قرار دیا ہے جو حقیقت میں کمزور ہونے کے باوجود اپنی بہادری یا عظمت کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔
یہ شعر انسان کو حقیقت پسند بننے اور کھوکھلے دعووں سے بچنے کا سبق دیتا ہے۔
📝 الفاظ کے معنی
ڈور تک : تھوڑی دیر تک، مختصر وقت تک
ثابت : مضبوط، قائم
اعصاب : حوصلے، دماغی و قلبی طاقت
آب و تاب : شان و شوکت، چمک دمک
🏛️ پس منظر
یہ شعر معاشرے کے اُن افراد کی عکاسی کرتا ہے جو عملی طور پر کمزور ہوتے ہیں لیکن گفتگو میں اپنی طاقت، عظمت اور بہادری کے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ شاعر نے انسانی نفسیات اور سماجی رویّوں پر طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اصل قوت دعووں میں نہیں بلکہ ثابت قدمی اور عمل میں ہوتی ہے۔
💡 مرکزی خیال
اعصابی کمزوری اور زندگی کی مشکلات کا بیان — انسان زندگی کے بوجھ تلے دب جاتا ہے۔
✨ ادبی خصوصیات
استعارہ: اعصاب کو ڈور سے تشبیہ دی گئی ہے۔ سادہ زبان میں گہری بات کہی گئی ہے۔
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کے لیے لاگ ان کریں

پہلے تبصرہ کریں!

نقل ہو گیا ✓
ادبی AI معاون
● آن لائن