اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
اُس کی ہر حال میں ہم سب پہ عطا آتی ہے
فعل اچھا ہو تو پھر اُس کی رضا آتی ہے

اُس کی مرضی کے بنا کچھ بھی نہیں ہے ممکن
جب وہ کہتا ہے تو پتوں میں ہوا آتی ہے

جب بھی لڑتے ہیں کبھی اُس کی رضا کی خاطر
قیصر و کسری کے دامن میں فنا آتی ہے

وعدہ کر کے بھی نبھایا نہ گیا ہے ہم سے
کون کہتا ہے ہمیں یار وفا آتی ہے

اُس کا کھاتے ہیں مگر غیر کا گاتے ہیں ہم
ہم سے لوگوں کو کہاں شرم و حیا آتی ہے

ہم ہی کرتے ہیں اسے خود سے پرایا ورنہ
آُس کی جانب سے تو الفت کی صدا آتی ہے

ہم نے سمجھا ہی نہیں عشق کا مطلب ہاشم ؔ
ہم کو مشکل میں فقط یادِ خدا آتی ہے
❤️ 1 پسند ← واپس
👁 28 بار پڑھی 📅 03 Jun 2026 💬 0 تبصرے
💡 تشریح
یہ نظم ایک روحانی اور اصلاحی انداز میں لکھی گئی ہے جس میں شاعر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، قدرت اور انسان کی کمزوری کو اجاگر کرتا ہے۔
پہلے اشعار میں شاعر واضح کرتا ہے کہ ہر حال میں جو کچھ انسان کو ملتا ہے وہ اللہ کی عطا ہے، اور نیکی یا برائی کا انجام بھی اسی کی رضا سے جڑا ہوا ہے۔ جب وہ چاہے تو ناممکن کو ممکن بنا دیتا ہے۔
اگلے حصے میں شاعر تاریخ اور طاقت کے زوال کا حوالہ دے کر یہ بتاتا ہے کہ حقیقی طاقت صرف اللہ کی ہے اور دنیاوی قوتیں اس کے سامنے بے بس ہیں۔
اس کے بعد شاعر انسانی کردار پر تنقید کرتا ہے کہ انسان وعدے تو کرتا ہے مگر انہیں پورا نہیں کرتا، اور وفا کی حقیقت کو بھلا بیٹھا ہے۔
مزید اشعار میں وہ معاشرتی رویوں پر روشنی ڈالتا ہے کہ انسان اللہ کی نعمتیں استعمال کرتا ہے مگر اکثر شکر گزار نہیں ہوتا اور دوسروں کی طرف جھکتا ہے۔
آخر میں شاعر خود احتسابی کرتے ہوئے کہتا ہے کہ انسان نے اصل عشق (اللہ کی معرفت) کو نہیں سمجھا اور مشکل وقت میں ہی خدا کو یاد کرتا ہے، جو اس کی کمزوری کی علامت ہے۔
📝 الفاظ کے معنی
عطا: بخشش، دینا
رضا: خوشنودی، خوشی
کسریٰ: قدیم فارسی بادشاہ
فنا: ختم ہو جانا، مٹ جانا
وفا: سچائی، نبھانا
حیا: شرم، اخلاقی احساس
الفت: محبت
صدا: آواز
عشقِ خدا: اللہ سے سچی محبت
🏛️ پس منظر
یہ نظم اسلامی اور روحانی شاعری کی روایت سے متاثر ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور انسان کی اخلاقی حالت پر غور کیا جاتا ہے۔ شاعر نے مشاہدات اور دینی احساسات کو یکجا کر کے ایک اصلاحی پیغام دیا ہے۔
یہ کلام اس سماجی پس منظر میں اہم ہے جہاں انسان مادی زندگی میں الجھ کر روحانی حقیقتوں کو بھلا بیٹھتا ہے۔ نظم قاری کو خود احتسابی، شکر گزاری اور اللہ سے تعلق مضبوط کرنے کی طرف متوجہ کرتی ہے۔
💡 مرکزی خیال
اللہ کی رحمت اور عطا — ہر حال میں اللہ کی نعمتیں جاری رہتی ہیں، شکر گزاری ضروری ہے۔
✨ ادبی خصوصیات
شکرگزاری کا اسلوب: اللہ کی عطا کا اعتراف ہے۔ ایمانی رنگ: توکل اور رضا کا اظہار ہے۔

✍️ ہاشم اسدؔ — مختصر تعارف

ہاشم اسدؔ
📍 لکھیم پور،اتر پردیس،ہندوستان

محمد ہاشم ادریسی، جن کا ادبی و قلمی نام ہاشم اسدؔ لبیدپوری ہے، اردو شعر و ادب کے اُن باصلاحیت تخلیق کاروں میں شمار ہوتے ہیں جو اپنی فکری سنجیدگی، ادبی ذوق اور تخلیقی شعور کے ذریعے اردو زبان و ادب کی خدمت میں مصروف ہیں۔ آپ کی ولادت 30 جون 1992ء کو گرام لبیدپور، ضلع لکھیم پور کھیری، ریاست اترپردیش (ہندوستان) میں ہوئی۔
ابتدائی زندگی سے ہی مطالعہ، علم دوستی اور ادبی ذوق آپ کی شخصیت کا نمایاں وصف رہا۔ …

مزید پڑھیں ←
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کے لیے لاگ ان کریں

پہلے تبصرہ کریں!

نقل ہو گیا ✓
ادبی AI معاون
● آن لائن