اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
شاعر: علامہ محمد اقبالؔ
❤️ 0 پسند ← واپس
👁 17 بار پڑھی 📅 09 Jun 2026 💬 0 تبصرے
💡 تشریح
علامہ اقبالؔ کا یہ شعر اردو اور فارسی شاعری کا ایک شاہکار ہے۔ یہ شعر اقبالؔ کے فلسفہ خودی کا نچوڑ ہے جو انہوں نے اپنی پوری شاعری میں بیان کیا ہے۔
پہلے مصرعے میں اقبالؔ انسان کو حکم دیتے ہیں کہ اپنی خودی یعنی اپنی ذات اور اپنے وقار کو اتنا بلند کرو کہ تقدیر بھی تمہارے سامنے سر جھکائے۔
دوسرے مصرعے میں اقبالؔ کہتے ہیں کہ جب انسان اتنا بلند ہو جائے تو خود خدا اس سے پوچھے کہ تیری کیا خواہش ہے۔
یہ شعر اسلامی تصوف کی روح کو بیان کرتا ہے جہاں انسان اللہ کا خلیفہ ہے اور اسے اپنی صلاحیتوں کو پہچاننا چاہیے۔
📝 الفاظ کے معنی
خودی: اپنی ذات اپنا وقار self-respect
بلند: اونچا عالی مقام
تقدیر: قسمت نصیب fate
رضا: خوشی منشا مرضی
🏛️ پس منظر
علامہ اقبالؔ نے فلسفہ خودی کو اپنی فارسی کتاب اسرارِ خودی 1915 میں تفصیل سے بیان کیا۔ یہ شعر اسی فلسفے کا اردو اظہار ہے۔ اقبالؔ نے یہ فلسفہ مسلمانوں کو احساسِ کمتری سے نکالنے کے لیے پیش کیا۔
💡 مرکزی خیال
انسان کو اپنی ذات کو پہچاننا اور بلند کرنا چاہیے۔ جب انسان اپنی حقیقی قدر جان لے تو وہ اللہ کا محبوب بن جاتا ہے۔
✨ ادبی خصوصیات
حکمیہ اسلوب: شعر میں براہِ راست حکم دیا گیا ہے۔
تجسیم: تقدیر کو انسانی شکل دی گئی ہے۔
خطاب: شاعر براہِ راست انسان سے مخاطب ہے۔
استعارہ: خودی کو بلند کرنا ایک خوبصورت استعارہ ہے۔

✍️ محمد اقبال — مختصر تعارف

محمد اقبال
📍 سیالکوٹ (موجودہ پاکستان)

علامہ محمد اقبالؔ اردو اور فارسی ادب کے عظیم شاعر، مفکر، فلسفی اور برصغیر کے ممتاز دانشور تھے۔ آپ 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سیالکوٹ میں حاصل کی، بعد ازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی جہاں آپ کو معروف مستشرق اور استاد سر تھامس آرنلڈ کی سرپرستی میسر آئی۔ مزید تعلیم کے لیے یورپ گئے، کیمبرج یونیورسٹی سے فلسفے کی تعلیم حاصل کی، میونخ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری …

مزید پڑھیں ←
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کے لیے لاگ ان کریں

پہلے تبصرہ کریں!

نقل ہو گیا ✓
ادبی AI معاون
● آن لائن