اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
کچھ تو ہماری زیست کا ساماں بنائیے
زُلفوں کو آپ اور پریشاں بنائیے

جلئے چراغ بنکے کسی رہ گزار میں
لمحات زندگی کے درخشاں بنائیے

شامِ اَلم کو طاق پہ رکھ دیجئے کہیں
پلکوں پہ آنسوؤں کو چراغاں بنائیے

ماحول ساز گار اگر چاہتے ہیں آپ
اِک آدمی کو گاؤں کا نِگراں بنائیے

اقبالؔ لَو بڑھائیے شمعِ حیات کی
"جتنی رگیں ہیں سب کو رگِ جاں بنائیے"
❤️ 1 پسند ← واپس
👁 31 بار پڑھی 📅 03 Jun 2026 💬 0 تبصرے
💡 تشریح
یہ غزل محبت، امید اور زندگی کے حسن کو ایک نرم اور جمالیاتی انداز میں پیش کرتی ہے۔ شاعر محبوب سے مخاطب ہو کر زندگی کے بکھرے ہوئے لمحات کو سنوارنے کی التجا کرتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ محبت انسان کے اندر روشنی، وقار اور زندگی کا احساس پیدا کرے۔ اشعار میں رومانویت کے ساتھ ساتھ معاشرتی اصلاح اور امید کا پہلو بھی نمایاں ہے۔
پہلے شعر میں شاعر زندگی کے لیے “ساماں” یعنی سہارا اور معنی مانگتا ہے، اور محبوب سے کہتا ہے کہ اس کی زلفوں کو بھی پریشانی (بکھراؤ) کا حسن عطا کیا جائے، جو عشق کی بے قراری کی علامت ہے۔
دوسرے شعر میں زندگی کے لمحوں کو چراغ کی مانند روشن کرنے کی بات کی گئی ہے، یعنی انسان اپنے وجود سے دوسروں کے لیے روشنی کا ذریعہ بنے۔
تیسرے شعر میں دکھ اور غم کو بھی ایک خوبصورت شکل دی گئی ہے، جہاں آنسوؤں کو چراغاں بنا کر غم کو حسن میں بدلنے کی بات ہے۔
چوتھے شعر میں سماجی احساس جھلکتا ہے، جہاں ایک فرد کو پورے گاؤں کا نگراں بنانے کی بات کی گئی ہے، یعنی ذمہ داری اور قیادت کا تصور۔
آخری شعر میں زندگی کی شمع کو روشن رکھنے اور عشق کو روحانی توانائی میں بدلنے کا پیغام دیا گیا ہے۔
📝 الفاظ کے معنی
زیست: زندگی
ساماں: سامان، سہارا، زندگی گزارنے کا ذریعہ
پریشاں: بکھرا ہوا، منتشر
رہگزار: راستہ چلنے والا، مسافر
درخشاں: روشن، چمکدار
شامِ الم: غم کی شام، دکھ کا وقت
طاق: وہ جگہ جہاں چراغ رکھا جاتا ہے
چراغاں: روشنیوں کا اہتمام، جشن جیسی روشنی
نگراں: دیکھ بھال کرنے والا، محافظ
لو: شمع کی روشنی/حرارت
رگِ جاں: زندگی کی اصل رگ، روح کے قریب ترین حصہ
🏛️ پس منظر
یہ غزل اردو شاعری کی اس روایت سے متاثر ہے جس میں عشق کو صرف جذباتی کیفیت نہیں بلکہ زندگی کو سنوارنے اور انسان کو بیدار کرنے والی قوت سمجھا جاتا ہے۔ اس میں کلاسیکی اردو غزل کا رنگ بھی موجود ہے اور جدید احساسات کی جھلک بھی۔
شاعر نے محبوب کے ذریعے زندگی کو روشن کرنے، غم کو حسن دینے اور انسان کو ذمہ داری کا شعور دینے کی کوشش کی ہے۔ یہ انداز اردو غزل کے اس رجحان کی نمائندگی کرتا ہے جس میں عشق کو محض رومان نہیں بلکہ فکری اور روحانی تجربہ سمجھا جاتا ہے۔
💡 مرکزی خیال
زندگی کی بقا اور محبوب سے درخواست — شاعر اپنی زندگی کا سہارا محبوب کو مانتا ہے۔
✨ ادبی خصوصیات
التجا: درخواست کا خوبصورت اسلوب ہے۔ تشبیہ: زندگی کو سامان سے تشبیہ دی گئی ہے۔

✍️ ثمامہ اقبال — مختصر تعارف

ثمامہ اقبال
📍 مئو ناتھ بھنجن،اترپردیس،ہندوستان

ثمامہ اقبالؔ اردو ادب کے اُن نوخیز اور باصلاحیت شعرا میں سے ہیں جو اپنے جذبات، مشاہدات اور فکری احساسات کو شعری قالب میں ڈھالنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ آپ کا قلمی نام اقبالؔ ہے، جس کے ذریعے آپ ادبی حلقوں میں اپنی شناخت قائم کر رہے ہیں۔
آپ کی ولادت 20 جون 2000ء کو مئو ناتھ بھنجن، اتر پردیش (U.P) میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم اور ادبی شعور کی نشوونما اسی علمی و تہذیبی ماحول میں ہوئی جس نے آپ کے اندر شعر و سخن …

مزید پڑھیں ←
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کے لیے لاگ ان کریں

پہلے تبصرہ کریں!

نقل ہو گیا ✓
ادبی AI معاون
● آن لائن