اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
مرزا اسد اللہ بیگ خان غالبؔ ہفتہ، 11 جولائی 2026
👁 12 ❤️ 0
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
ڈرے کیوں میرا قاتل کیا رہے گا اس کی گردن پر
وہ خوں جو چشم تر سے عمر بھر یوں دم بدم نکلے
نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن
بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے
بھرم کھل جائے ظالم تیرے قامت کی درازی کا
اگر اس طرۂ پر پیچ و خم کا پیچ و خم نکلے
مگر لکھوائے کوئی اس کو خط تو ہم سے لکھوائے
ہوئی صبح اور گھر سے کان پر رکھ کر قلم نکلے
ہوئی اس دور میں منسوب مجھ سے بادہ آشامی
پھر آیا وہ زمانہ جو جہاں میں جام جم نکلے
ہوئی جن سے توقع خستگی کی داد پانے کی
وہ ہم سے بھی زیادہ خستۂ تیغ ستم نکلے
محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے
کہاں مے خانہ کا دروازہ غالبؔ اور کہاں واعظ
پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے
📖 خلاصہ

مرزا غالبؔ اس غزل میں انسان کی لامتناہی خواہشات، عشق کی شدت، ناکامیوں، تقدیر کی بے رحمی اور زندگی کی پیچیدگیوں کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کرتے ہیں۔ شاعر بتاتا ہے کہ انسان کی خواہشیں کبھی ختم نہیں ہو…

📚 ادبی جائزہ

یہ غزل مرزا غالبؔ کی فکری اور فنی عظمت کا شاہکار ہے۔ اس میں کلاسیکی اردو غزل کی تمام خوبیاں اپنے عروج پر دکھائی دیتی ہیں۔ غالبؔ نے زندگی، محبت، خواہش،…

🖋️ تنقیدی جائزہ

تنقیدی اعتبار سے یہ غزل انسانی نفسیات کی گہری تفہیم پیش کرتی ہے۔ غالبؔ خواہشات کو صرف جذباتی کیفیت نہیں سمجھتے بلکہ انہیں انسانی وجود کی بنیادی قوت قر…

✦ مرکزی خیال

اس غزل کا بنیادی خیال یہ ہے کہ انسان خواہشات کا پیکر ہے اور اس کی زندگی آرزو، عشق، محرومی اور امید کے درمیان مسلسل سفر کا نام ہے۔ مرزا غالبؔ یہ حقیقت …

✦ شعر بہ شعر تشریح

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے مشکل الفاظ خواہش: آرزو، تمنا دم نکلے: جان نکل جانا، انتہائی ش…

✦ فنی محاسن

زبان کی سادگی اور معنوی گہرائی ردیف "نکلے" کا مسلسل صوتی حسن قافیہ: دم، کم، دم بدم، ہم، قلم، جم، ستم ایجاز و اختصار حسنِ تعلیل علامتی ا…

✦ علامت نگاری

خواہش → انسانی آرزو اور لامتناہی جستجو دم نکلنا → انتہائی شدت، قربانی اور آخری حد قاتل → محبوب، تقدیر یا بے رحم حالات خون → عشق کی قربانی خلد → جن…

✦ استعارات و تشبیہات

غالبؔ نے اس غزل میں نہایت باریک اور تہہ دار استعارات استعمال کیے ہیں۔ خواہش کو زندگی کی بنیادی قوت بنایا گیا ہے۔ قاتل محبوب اور تقدیر دونوں کا استعا…

✦ شاعر کے فکری زاویے

غالبؔ انسان کو خواہشات سے خالی نہیں دیکھتے بلکہ انہی خواہشوں کو زندگی کی حرکت قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک عشق محض جذبات نہیں بلکہ خود شناسی کا ذریعہ ہے…

✦ آج کے دور میں غزل کی معنویت

آج کے دور میں بھی انسان کی خواہشات پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی، دولت، شہرت اور کامیابی کی دوڑ میں انسان مسلسل نئی آرزوؤں کے تعاقب م…

← پچھلا اگلا →

✍️ مرزا اسد اللہ بیگ خان غالبؔ — مختصر تعارف

مرزا اسد اللہ بیگ خان غالبؔ
📍 آگرہ، ہندوستان

مرزا غالب کی سوانح حیات
مرزا غالب اردو اور فارسی ادب کے ان عظیم ترین شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی فکر، تخیل، فلسفے اور اسلوبِ بیان سے شاعری کو ایک نئی جہت عطا کی۔ ان کا شمار ان چند ادیبوں میں ہوتا ہے جن کا کلام وقت گزرنے کے ساتھ مزید معتبر اور مقبول ہوتا گیا۔ غالبؔ نے انسانی نفسیات، عشق، کائنات، تقدیر، وجود، عقل اور جذبات جیسے پیچیدہ موضوعات کو اس انداز سے بیان کیا کہ ان کی شاعری ہر دور ک …

مزید پڑھیں ←
غزل کیا ہے؟

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

مرزا اسد اللہ بیگ خان غالبؔ کی مزید
ہجوم نالہ حیرت عاجز عرض یک افغاں ہے خموشی ریشۂ صد نیستاں سے خس بہ دنداں ہے تکلف بر طرف ہے جاں ست...
گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر جانے گا اب بھی تو نہ مرا گھر کہے بغیر؟ کہتے ہیں جب رہی نہ مج...
دل سخت نژند ہو گیا ہے گویا اُس سے گِلہ مند ہو گیا ہے گویا پَر یار کے آگے بول سکتے ہی نہیں غالبؔ م...
دیوانِ غالب اردو ادب کی تاریخ کا ایک ایسا شاہکار ہے جس نے شاعری کے معیار، فکری گہرائی اور زبان و بیا...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن