اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
مرزا اسد اللہ بیگ خان غالبؔ جمعہ، 10 جولائی 2026
👁 21 ❤️ 0
ابن مریم ہوا کرے کوئی
میرے دکھ کی دوا کرے کوئی
شرع و آئین پر مدار سہی
ایسے قاتل کا کیا کرے کوئی
چال جیسے کڑی کمان کا تیر
دل میں ایسے کے جا کرے کوئی
بات پر واں زبان کٹتی ہے
وہ کہیں اور سنا کرے کوئی
بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
نہ سنو گر برا کہے کوئی
نہ کہو گر برا کرے کوئی
روک لو گر غلط چلے کوئی
بخش دو گر خطا کرے کوئی
کون ہے جو نہیں ہے حاجت مند
کس کی حاجت روا کرے کوئی
کیا کیا خضر نے سکندر سے
اب کسے رہنما کرے کوئی
جب توقع ہی اٹھ گئی غالبؔ
کیوں کسی کا گلہ کرے کوئی
📖 خلاصہ

"ابنِ مریم ہوا کرے کوئی" ایک ایسی غزل ہے جس میں مرزا غالبؔ نے انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو ایک ہی فکری دھارے میں سمو دیا ہے۔ غزل کا آغاز انسانی درد کے علاج کی خواہش سے ہوتا ہے، مگر آگے چل…

📚 ادبی جائزہ

غالبؔ کی یہ غزل اس اعتبار سے منفرد ہے کہ اس کا ہر شعر ایک مستقل فکری اکائی ہے، مگر جب تمام اشعار ایک دوسرے کے ساتھ پڑھے جائیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیس…

🖋️ تنقیدی جائزہ

اس غزل کو صرف ایک عاشق کے دکھ یا ایک فلسفی کے خیالات کے طور پر پڑھنا اس کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ دراصل غالبؔ نے یہاں انسان کی داخلی شکست اور خارجی انتشا…

✦ مرکزی خیال

مرزا غالبؔ کی یہ غزل انسانی زندگی کے درد، معاشرتی بے حسی، انصاف، اخلاق، معافی، رہنمائی اور امید جیسے آفاقی موضوعات کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔ شاع…

✦ شعر بہ شعر تشریح

ابن مریم ہوا کرے کوئی میرے دکھ کی دوا کرے کوئی غالبؔ اپنی غزل کا آغاز ایک ایسی ہستی کی آرزو سے کرتے ہیں جو دوسروں کے درد کو سمجھنے اور اس کا علاج …

✦ فنی محاسن

اس غزل میں مرزا غالبؔ کی فنی عظمت اپنے عروج پر نظر آتی ہے۔ زبان نہایت سادہ، شستہ اور باوقار ہے، مگر مفاہیم انتہائی گہرے ہیں۔ ہر شعر ایک مستقل فکر رکھت…

✦ علامت نگاری

غالبؔ کی اس غزل میں علامتوں کا استعمال نہایت بامعنی اور تہہ دار ہے۔ ابنِ مریم → شفا، رحمت، انسان دوستی اور مسیحائی۔ قاتل → ظلم، ناانصافی اور جبر۔ ک…

✦ استعارات و تشبیہات

غالبؔ نے اس غزل میں استعاروں اور تشبیہات کے ذریعے کم الفاظ میں وسیع مفاہیم پیدا کیے ہیں۔ ابنِ مریم کو ہر دور کے مصلح اور درد مند انسان کا استعارہ بنا…

✦ شاعر کے فکری زاویے

اس غزل میں غالبؔ صرف عاشق نہیں بلکہ ایک مفکر، اخلاقی معلم اور انسان دوست شاعر کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ ان کے نزدیک انسان کی اصل عظمت دوسروں کے دکھ بان…

✦ آج کے دور میں غزل کی معنویت

اگرچہ یہ غزل انیسویں صدی میں لکھی گئی، مگر اس کے موضوعات آج پہلے سے زیادہ زندہ محسوس ہوتے ہیں۔ موجودہ دور میں جنگیں، سماجی بے حسی، انصاف کی کمزوری، آز…

← پچھلا اگلا →

✍️ مرزا اسد اللہ بیگ خان غالبؔ — مختصر تعارف

مرزا اسد اللہ بیگ خان غالبؔ
📍 آگرہ، ہندوستان

مرزا غالب کی سوانح حیات
مرزا غالب اردو اور فارسی ادب کے ان عظیم ترین شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی فکر، تخیل، فلسفے اور اسلوبِ بیان سے شاعری کو ایک نئی جہت عطا کی۔ ان کا شمار ان چند ادیبوں میں ہوتا ہے جن کا کلام وقت گزرنے کے ساتھ مزید معتبر اور مقبول ہوتا گیا۔ غالبؔ نے انسانی نفسیات، عشق، کائنات، تقدیر، وجود، عقل اور جذبات جیسے پیچیدہ موضوعات کو اس انداز سے بیان کیا کہ ان کی شاعری ہر دور ک …

مزید پڑھیں ←
غزل کیا ہے؟

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

مرزا اسد اللہ بیگ خان غالبؔ کی مزید
ہجوم نالہ حیرت عاجز عرض یک افغاں ہے خموشی ریشۂ صد نیستاں سے خس بہ دنداں ہے تکلف بر طرف ہے جاں ست...
گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر جانے گا اب بھی تو نہ مرا گھر کہے بغیر؟ کہتے ہیں جب رہی نہ مج...
دل سخت نژند ہو گیا ہے گویا اُس سے گِلہ مند ہو گیا ہے گویا پَر یار کے آگے بول سکتے ہی نہیں غالبؔ م...
دیوانِ غالب اردو ادب کی تاریخ کا ایک ایسا شاہکار ہے جس نے شاعری کے معیار، فکری گہرائی اور زبان و بیا...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن