اشتہار
اشتہار
یہ سائٹ جناب اکبر شیخ صاحب
اکبر شیخ
کے اعزاز میں تخلیق کی گئی ہے
📖 ان کے بارے میں
غزل
مرزا اسد اللہ بیگ خان غالبؔ ہفتہ، 11 جولائی 2026
👁 8 ❤️ 0
دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے
ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار
یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے
میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں
کاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے
جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود
پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے
یہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیں
غمزہ و عشوہ و ادا کیا ہے
شکن زلف عنبریں کیوں ہے
نگہ چشم سرمہ سا کیا ہے
سبزہ و گل کہاں سے آئے ہیں
ابر کیا چیز ہے ہوا کیا ہے
ہم کو ان سے وفا کی ہے امید
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے
ہاں بھلا کر ترا بھلا ہوگا
اور درویش کی صدا کیا ہے
جان تم پر نثار کرتا ہوں
میں نہیں جانتا دعا کیا ہے
میں نے مانا کہ کچھ نہیں غالبؔ
مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے
📖 خلاصہ

یہ غزل انسانی دل کی بے قراری، عشق کی پیچیدگی، خدا کی قدرت، انسان کی بے بسی، محبوب کی بے نیازی اور زندگی کے فلسفے کا حسین امتزاج ہے۔ غالبؔ ہر شعر میں ایک نیا سوال اٹھاتے ہیں جو صرف عاشق کا نہیں بلکہ پو…

📚 ادبی جائزہ

یہ غزل اردو ادب کی بہترین فلسفیانہ غزلوں میں شمار ہوتی ہے۔ غالبؔ نے نہایت سادہ الفاظ میں انتہائی گہرے خیالات بیان کیے ہیں۔ سوالیہ انداز، مکالماتی کیفی…

🖋️ تنقیدی جائزہ

تنقیدی اعتبار سے یہ غزل غالبؔ کی فکری عظمت کی نمائندہ ہے۔ بعض ناقدین کے مطابق غالبؔ نے عشق کو صرف جذباتی کیفیت نہیں بلکہ انسانی وجود کے ایک بنیادی سوا…

✦ مرکزی خیال

اس غزل کا بنیادی خیال یہ ہے کہ انسان عشق، عقل، تقدیر اور خدا کی حقیقت کو سمجھنے کی مسلسل کوشش کرتا رہتا ہے، مگر ہر سوال کے ساتھ ایک نیا سوال جنم لیتا …

✦ شعر بہ شعر تشریح

شعر نمبر 1 دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے آخر اس درد کی دوا کیا ہے تشریح مرزا غالبؔ اس مطلع میں اپنے ہی دل سے مخاطب ہیں۔ وہ اپنے دل کو "ناداں…

✦ فنی محاسن

سادہ مگر گہری زبان مسلسل سوالیہ اسلوب فلسفیانہ اندازِ بیان عشق اور تصوف کا حسین امتزاج حسنِ تعلیل ایجاز و اختصار موسیقیت ردیف "کیا ہے"…

✦ علامت نگاری

غزل میں متعدد علامتیں موجود ہیں، مثلاً: دل — انسانی جذبات اور شعور درد — عشق، زندگی اور روحانی بے چینی وفا — اخلاص اور سچی محبت ابر — قدرتِ الٰہ…

✦ استعارات و تشبیہات

اس غزل میں غالبؔ نے کئی خوبصورت استعارات استعمال کیے ہیں۔ دل کو انسانی شخصیت کی علامت بنایا۔ درد کو عشق کا استعارہ بنایا۔ سبزہ و گل کو زندگی اور …

✦ شاعر کے فکری زاویے

غالبؔ کی فکر اس غزل میں کئی جہتوں سے سامنے آتی ہے۔ عشق ایک روحانی تجربہ ہے۔ انسان ہمیشہ سوال کرنے والی مخلوق ہے۔ خدا کی معرفت آسان نہیں۔ محبت صر…

✦ آج کے دور میں غزل کی معنویت

آج کا انسان بھی ذہنی دباؤ، بے یقینی، تنہائی اور روحانی اضطراب کا شکار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ غزل آج بھی اتنی ہی تازہ محسوس ہوتی ہے جتنی غالبؔ کے زمانے م…

← پچھلا اگلا →

✍️ مرزا اسد اللہ بیگ خان غالبؔ — مختصر تعارف

مرزا اسد اللہ بیگ خان غالبؔ
📍 آگرہ، ہندوستان

مرزا غالب کی سوانح حیات
مرزا غالب اردو اور فارسی ادب کے ان عظیم ترین شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی فکر، تخیل، فلسفے اور اسلوبِ بیان سے شاعری کو ایک نئی جہت عطا کی۔ ان کا شمار ان چند ادیبوں میں ہوتا ہے جن کا کلام وقت گزرنے کے ساتھ مزید معتبر اور مقبول ہوتا گیا۔ غالبؔ نے انسانی نفسیات، عشق، کائنات، تقدیر، وجود، عقل اور جذبات جیسے پیچیدہ موضوعات کو اس انداز سے بیان کیا کہ ان کی شاعری ہر دور ک …

مزید پڑھیں ←
غزل کیا ہے؟

غزل اردو شاعری کی سب سے مقبول صنف ہے۔ اس میں عام طور پر محبت، جدائی، فلسفہ اور زندگی کے موضوعات پر اشعار ہوتے ہیں۔ ہر شعر اپنی جگہ مکمل ہوتا ہے۔

مرزا اسد اللہ بیگ خان غالبؔ کی مزید
ہجوم نالہ حیرت عاجز عرض یک افغاں ہے خموشی ریشۂ صد نیستاں سے خس بہ دنداں ہے تکلف بر طرف ہے جاں ست...
گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر جانے گا اب بھی تو نہ مرا گھر کہے بغیر؟ کہتے ہیں جب رہی نہ مج...
دل سخت نژند ہو گیا ہے گویا اُس سے گِلہ مند ہو گیا ہے گویا پَر یار کے آگے بول سکتے ہی نہیں غالبؔ م...
دیوانِ غالب اردو ادب کی تاریخ کا ایک ایسا شاہکار ہے جس نے شاعری کے معیار، فکری گہرائی اور زبان و بیا...
🔗 یہ بھی دیکھیں
💬 تبصرے (0)
تبصرہ کرنے کے لیے لاگ ان کریں

ابھی کوئی تبصرہ نہیں — پہلے تبصرہ کریں!

ادبی AI معاون
● آن لائن